[23:18, 11/06/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم
میرے تمامی یاران طریقت کی خدمت میں سلام عاجزانہ قبول ہو۔
درس فوائد الفواد پیش خدمت ہے۔ آئیں دربار محبوب الٰہی میں ۔۔۔۔۔۔۔
حاضرین میں سے ایک نے پوچھا کہ ایک مرتبہ وہ ملازم بھی ہو گئے تھے خواجہ صاحب نے فرمایا ہاں! ایک مرتبہ وہ مستوفی (محاسب اعلیٰ ) مقرر ہوئے تھے خواجہ تاج الدین ریزہ نے آپ کے بارے میں یہ شعر پڑھا ہے:
؎ صدر اکنون بہ کام دل دوستاں شدی مستوفی ممالک ہندوستاں شدی
************************************
یہ شعر: **صدر اکنون بہ کامِ دلِ دوستاں شدی مستوفی ممالکِ ہندوستاں شدی**
ایک شخص کے بلند عہدہ اور کامیابی پر خوشی ظاہر کرتا ہے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مفہوم کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ عہدہ، حکومت یا اختیار اصل میں امانت اور ذمہ داری ہے، صرف عزت نہیں۔
قرآن کی روشنی میں
1۔ عہدہ ایک امانت ہے
القرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> **إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا**
>“بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق دروں تک پہنچاؤ۔”( سورۃ النساء 4:58)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت، منصب اور مالی اختیار امانت ہیں۔ شعر میں “مستوفی” یعنی مالی امور کا نگران
بننے کا ذکر ہے، تو اس منصب میں دیانت بہت ضروری ہے۔
2۔ کامیابی پر تکبر نہیں، شکر ہونا چاہیے
القرآن میں فرمایا:
> **لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ** “اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔”(سورۃ ابراہیم 14:7)
یعنی منصب ملنے پر انسان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، غرور نہیں کرنا چاہیے۔
ضحدیث کی روشنی میںض
1۔ قیادت ذمہ داری ہے
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> **كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ**
“تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”
اس حدیث کے مطابق جو شخص بڑے منصب پر پہنچے، وہ لوگوں کے حقوق اور انصاف کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
2۔ عہدہ طلب کرنے سے منع
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ہم یہ عہدہ اس شخص کو نہیں دیتے جو اسے خود طلب کرے۔”
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منصب عزت کے لیے نہیں بلکہ خدمت کے لیے ہونا چاہیے۔
شعر کا اسلامی مفہوم
اس شعر کو اسلامی نقطۂ نظر سے یوں سمجھا جا سکتا ہے:
* دوستوں کی خواہش کے مطابق بلند مقام ملنا اللہ کی نعمت ہے۔
* لیکن “صدر” اور “مستوفی” بننے کے بعد اصل کامیابی انصاف، دیانت اور خدمتِ خلق میں ہے۔
* اسلام میں اقتدار یا مالی اختیار کو آزمائش اور امانت سمجھا جاتا ہے۔
یہ شعر:
> **صدر اکنون بہ کامِ دلِ دوستاں شدی
> مستوفیِ ممالکِ ہندوستاں شدی**
ایک شخص کے بلند عہدہ اور کامیابی پر خوشی ظاہر کرتا ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مفہوم کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ **عہدہ، حکومت یا اختیار اصل میں امانت اور ذمہ داری ہے، صرف عزت نہیں۔**
صوفیانہ شرح
صوفیا کے نزدیک اس شعر میں “صدر” اور “مستوفی” صرف دنیاوی منصب نہیں بلکہ روحانی مقام کی علامتیں ہیں۔
“صدر اکنون بہ کامِ دلِ دوستاں شدی”
یعنی:تم اب ایسے مقام پر پہنچ گئے ہو جہاں اہلِ دل، اولیا اور دوستِ خدا تم سے خوش ہیں۔
صوفیا کے ہاں “دوستاں” سے مراد: اہلِ محبت،اہلِ معرفت،اللہ والے لوگ ہوتے ہیں۔ان کی رضا دَراَصل اللہ کی رضا کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
یہ مصرع اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ سالک نے نفس کی خواہشات چھوڑ کر دل کی پاکیزگی حاصل کر لی، اس لیے اب وہ اہلِ دل کے نزدیک مقبول ہو گیا۔
“مستوفی ممالکِ ہندوستاں شدی”
“مستوفی” حساب رکھنے والے کو کہتے ہیں۔صوفیانہ معنی میں اس سے مراد ہےکہ تم اپنے باطن کی سلطنت کے نگران بن گئے۔ تم نے نفس، خواہشات اور دل کی کیفیتوں کا محاسبہ سیکھ لیا۔صوفیا اکثر انسان کے دل کو ایک “مملکت” کہتے ہیں۔جس شخص نے اپنے اندر کے نفس،خواہش،غرور،حرص پر قابو پا لیا، وہ اپنی باطنی مملکت کا حکمران بن جاتا ہے۔یہاں “ہندوستاں” وسعت اور رنگارنگی کی علامت بھی ہو سکتا ہے، یعنی انسان کے اندر کی بے شمار کیفیات اور دنیاوی تعلقات۔
صوفیانہ خلاصہ
اس شعر کا باطنی مفہوم یہ ہے کہ:
“تم نے روحانی ترقی حاصل کر لی، اہلِ دل کی نگاہ میں مقبول ہو گئے، اور اب اپنے نفس و باطن کی سلطنت کا محاسبہ اور انتظام کرنے والے بن گئے ہو۔”صوفیا کے نزدیک اصل بادشاہی دنیا کی حکومت نہیں بلکہ:نفس پر غلبہ،دل کی پاکیزگی،اور اللہ کی قربت ہے۔اسی لیے حضرت علیؓ سے منسوب قول مشہور ہے:“جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”
************************************
میں (مؤلف کتاب) نے عرض کی کہ خواجہ شمس الملک کی بزرگی ان کے وفورِ علم (وسیع علم و معلومات)سے ظاہر ہے لیکن کون جانتا ہے کہ درویشوں سے علاقہ تھا یا ان سے محبت تھی خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عقیدہ بہت خوب تھا میری تعظیم جو کرتے تھے اسی سے ان کے عقیدے کااندازہ ہو سکتا ہے۔
بدھ کے روز چو بیسویں ماہ مذکور کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا اسی روز کنی یاروں نے اکٹھے ہی قدمبوسی کی۔ پوچھا۔ کیا ایک ہی مقام سے آئے ہو؟ عرض کی جدا جدا مقام سے یہاں آکر اکٹھے ہوئے ہیں فرمایا: الگ الگ آنا بہتر ہے کیونکہ شیخ فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز یہی فرمایا کرتے تھے کہ الگ الگ آیا کرو کہ نظر برحق ہے۔
پھر اس بارے میں گفتگو شروع ہوئی کہ نظر اور جادو کا اَثر برحق ہے، تو فرمایا کہ یہ وہ حق نہیں جو غیر باطل ہے یعنی اس کا اَثر ضرور ہوتا ہے۔ معتزلہ تو اس بات کے قائل ہیں کہ نظر اور جادو کا اَثر ہوتا ہی نہیں ۔فرمایا وہ غلطی پر ہیں یہاں سے معونت ،کرامت اور استدراج کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ معجزہ انبیاء کا کام ہے جن کا علم اور عمل کامل ہوتا ہے اور وہ صاحب وحی ہوتے ہیں جو کچھ ان سے ظاہر ہوتا ہے وہ معجزہ ہے۔ کرامت وہ ہے جو اولیاء سے ظاہر ہوتی ہے۔ انہیں بھی علم اور عمل بدرجہ کمال ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ جو کچھ ان سے ظاہر ہوتا ہے وہ کرامت کہلاتا ہے معونت کا یہ مطلب ہے کہ بعض دیوانوں سے جنہیں نہ علم ہوتا ہے ،نہ عمل کبھی کبھی خلاف عادت کوئی بات ظہور میں آتی ہے اسے معونت کہتے ہیں استدراج اسے کہتے ہیں کہ جو ایک گروہ سے جسے ایمان کامس (ایمان کی ہلکی سی جھلک یا اَثر) بھی نہیں جیسے اہل سحر وغیرہ کی کوئی بات دیکھی جائے۔
(گھر ناری گنواری چاہے جو کہے)
۔۔۔ محفل سماع۔۔۔
گھر ناری گنواری چاہے جو کہے
میں نجام سے نیناں لگا آئی رے
سوہنی صورت موہنی مورت
میں تو ہردے بچ سما آئی رے
خسروؔ نجامؔ کے بل بل جئیے
میں تو انمول چیری کہا آئی رے
