google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.22

DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.22

0

ذکر سکتہ امام ناصری 

ہفتے کے روز ساتویں ماہ ذیقعد سن مذکور کو قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا امام ناصری کی تفسیر پاس پڑی تھی وہاں سے صاحب تفسیر کی حکایت بیان فرمائی کہ امام کو ایک دفعہ کوئی بیماری لاحق ہوئی اور اس بیماری میں سکتہ لاحق ہوا، لواحقین نے خیال کیا کہ وہ مرگیا۔ چنانچہ دَفن بھی کر آئے، جب رات ہوئی اور ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ مجھے تو قبر میں ڈال گئے ہیں، اسی حیرانگی اور اضطراب کی حالت میں اسے یاد آیا کہ جو شخص اضطراب کی حالت میں چالیس مرتبہ سورہ یسین پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس تنگی سے اسے فرحت عنایت کرتا ہے اورکوئی راہ نکل آتی ہے۔ سو،سورۃ یسین پڑھنی شروع کی جب انتالیس مرتبہ پڑھ چکا تو کشادگی کے آثار ظاہر ہونے لگے اور وہ اس طلب کہ کفن چور نے کفن کی طمع سے قبر کھودی، امام کو معلوم ہوگیا کہ یہ کفن چور ہے۔ سورہ یسین آہستہ آہستہ پڑھنی شروع کی تاکہ مراد مطابق قبر کھودے مختصر یہ کہ جب چالیس مرتبہ سورہ یسین ختم کی تو امام ناصر آہستہ سے قبر سے باہر نکلے جب کفن چور نے دیکھا،مارے خوف کے وہیں ہلاک ہوا۔ امام کو اُس کی موت کا بڑا افسوس ہوا کہ مجھے چپ رہنا چاہیے تھا ،تا کہ وہ کفن لے جاتا جب باہر نکلے تو سوچا کہ اگر لوگ مجھے یکبارگی دیکھیں گے تو خوفزدہ ہو جائیں گے پس شہر میں آکر آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا میں سکتہ کی بیماری میں مبتلا تھا مجھے غلطی سے قبر میں ڈال آئے تھے ،خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد تفسیر لکھی تھی۔

پھر ان لوگوں کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی جو ہمیشہ دین میں مستغرق رہتے ہیں اور کھانے پینے کی سدھ بدھ نہیں ہوتی جو کچھ کرتے ہیں اسی کے لیے کرتے ہیں فرمایا کہ ایک بزرگ شیخ دریا کے کنارے رہا کرتا تھا اس کی ایک عورت تھی ایک روز عورت کو کہا کھانا لے کر دریا کے پار جا کر جو فقیر بیٹھا ہے اسے دے آعورت نے کہا پانی گہرا ہے عبور کس طرح کروں گی شیخ نے کہا: دریا کے کنارے جا کر کہنا کہ میرے شوہر کی حرمت سے جس نے مجھ سے کبھی صحبت نہیں کی راہ دے عورت حیران رہ گئی اور اپنے دل میں کہا کہ اس سے میرے ہاں اتنے بال بچے پیدا ہوئے اور یہ کہتا ہے کہ میں نے صحبت ہی نہیں کی آخر شوہر کے فرمان کے مطابق دریا کے کنارے پر پہنچی اور وہی کہا تو دریا نے راستہ دیا اور پار ہو گئی۔ وہاں پہنچ کر درویش کے سامنے کھانا رکھا۔ اس نے کھا لیا تو عورت نے سوچا کہ آتی مرتبہ تو اس طرح آئی اب جاؤں گی کس طرح؟ درویش نے پوچھا کہ کس طرح آئی تھی عورت نے ساری بات کہہ سنائی درویش نے کہا: اچھا اب جا کر یہ کہنا کہ اے دریا! اس شیخ کی حرمت سے جس نے تمیں سال سے کسی قسم کا کھانا نہیں کھایا مجھے رستہ دے ،عورت  حیران رہ گئی کہ میرے سامنے ابھی اس نے کھایا ہے اور ابھی اس طرح کہتا ہے خیر اس نے جا کر دریا کے کنارے ایسا ہی کہا رستہ مل گیا اور اپنے شوہر کے پاس پہنچی تو کہا کہ مجھے ان  دونوں باتوں کا بھید بتلاؤ کہ تو نے کئی سال مجھ سے صحبت کی اور اس درویش نے بھی میرے سامنے کھانا کھایا یہ دونوں جھوٹ کہہ کر دریا سے رستہ لیا اور اس میں کیا حکمت ہے؟ شیخ نے کہا: تجھے واضح رہے کہ میں نے ہوائے نفسانی سے کبھی تجھ سے صحبت نہیں کی اسی طرح اس درویش نے بھی کبھی نفسانی طمع سے کھانا نہیں کھایا بلکہ محض عبادت اور طاعت کی خاطر۔ اس لحاظ سے اس نے کبھی کھانا نہیں کھایا ان دونوں باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ مردان خدا کرتے ہیں وہ خدا کے لیے کرتے ہیں ان کی نیت سب حق کی خاطر ہوتی ہے اس موقعہ پر  شیخ قطب الدین بختیار قدس اللہ سرہ العزیز کی بابت فرمایا کہ آپ کے فرزند تو ام (جوڑے) تھے ایک تو چھوٹی عمر میں فوت ہو گیا اور دوسرا بڑا ہوا جو بڑا ہوا اس کے احوال کو شیخ صاحب کے احوال سے کچھ مناسبت نہ تھی اور آپس میں شکل وصورت میں ملتے جلتے تھے پھر فرمایا کہ شیخ قطب الدین کے فرزند شیخ الاسلام نور اللہ مرقدہما تھے۔ القصہ فرمایا کہ جب شیخ صاحب کا چھوٹا لڑکا فوت ہوا اور اسے دفن کر کے واپس آئے تو آپ کے حرم فرزندنی وفات پر جزع و فزع کر رہے تھے جو شیخ قطب الدین قدس اللہ سرہ العزیز نے سنا تو ہاتھ پر ہاتھ مار کر افسوس کرنا شروع کیا۔ شیخ بدرالدین غزنوی ؒ نے جو حاضر خدمت تھے پوچھا کہ یہ افسوس کیسا؟ فرمایا کہ اب مجھے افسوس آتا ہے کہ میں نے کیوں اللہ تعالیٰ سے التجاء نہ کی کہ میرا فرزند بڑی عمر کا ہوتا، اگر میں خواہش کرتا تو ضرور منظور ہو جاتی۔ تو خواجہ صاحب نے فرمایا  کہ دیکھو! ان کا استغراق کس درجے کا تھا کہ اپنے فرزند کے جینے تک کی خبر نہیں۔

طريقۂ دعاء

پھر دُعا کرنے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ دُعا کے وقت کیے ہوئے گناہوں کا خیال دل میں نہیں لانا چاہیے اورنہ ہی کی ہوئی طاعت اور عبادت کا ،اگر ایسا کرے اور دُعا قبول نہ ہو تو بڑے تعجب کی بات ہے اگر گناہ کا خیال دل میں لائے تو دعاءکے ایقان میں سستی پیدا ہوتی ہے پس دُعا کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ یہ دُعا ضروری قبول ہو جائیگی نیز فرمایا کہ دونوں ہاتھ دعاء کے وقت کھلے رکھنے چاہئیں اور سینے کے برابر ۔ یہ بھی آیا ہے کہ دونوں ہاتھ ملا کر رکھنے چاہئیں اور بہت اوپر ایسی شکل اختیار کرنی چاہیے کہ ابھی کوئی چیز ملے گی اس موقعہ کے مناسب فرمایا کہ دُعاء دل کی تسلی کے لیے ہوتی ہے بہتر اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے؟

ذکر عقیدۂ مریداں

پھر مریدوں کے عقیدہ کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی فرمایا اس سے پہلے میرا ہمسایہ محمد نام تھا جو ہر سال ناروےکی بیماری(Norwegian scabies -یہ خارش کی ایک شدید قسم ہوتی ہے)  میں مبتلا ہوتا اور اس بیماری میں سخت تکلیف اٹھاتا جب میں شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں زیارت کے لیے روانہ ہوا تو اس نے کہا کہ شیخ صاحب سے میرے لیے تعویذ لا نا جب میں شیخ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس مرد کا حال بیان کیا اور تعویذ مانگا فرمایا کہ تو ہی لکھ لے خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے تعویذ لکھا اور خواجہ صاحب کے ہاتھ دیا آپ نے دیکھ کر پھر مجھے واپس کر دیا اور فرمایا: اسے دے دینا جب میں شہر پہنچا تو اسے تعویذ دیا پھر کبھی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوا حاضرین میں سے ایک نے پوچھا کہ تعویذ میں کیا لکھا تھا خواجہ صاحب نے فرمایا :

 " الله شافی الله الكافى الله المعافی  "

اور کچھ اور بھی جو اس وقت مجھے یاد نہیں۔

ریشِ مبارک بابا فریدگنج شکرؒ کی برکات

نیز حسن اعتقاد کے بارے میں فرمایا کہ ایک روز میں شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں بیٹھا تھا آپ کی ریش مبارک سے ایک بال آپ کی گود میں گرا میں نے عرض کی کہ کچھ التماس کیا چاہتا ہوں اگر آپ اجازت عنایت فرمائیں۔ پوچھا کیا ہے میں نے عرض کی جناب کی ریش مبارک سے ایک بال آپ کی گود میں آگرا ہے اگر حکم ہو تو اُسے بجائے تعویز نگاہ میں رکھونگا فرمایا: بہتر وہ ہال بڑی تعظیم و تکریم سے لے کر کپڑے میں لپیٹا اور اپنے ساتھ لے کر شہر میں آیا خواجہ صاحب نے آبدیدہ ہو کرفرمایا کہ اس ایک بال کی بہت بڑی تاثیریں دیکھیں جب کوئی بیمار تعویذ کے لیے میرے پاس آتا میں وہی بال اسے دیتا جو چند روز  رَکھنے سے اسے صحت ہو جاتی ۔میرا ایک دوست تاج الدین مینائی تھا ،اس کا چھوٹا لڑکا بیمار ہو گیا، تو اس نے آکر تعویذ مانگا بہتیرا میں نے اس بال کو ڈھونڈا نہ ملا نامراد واپس چلا گیا، اسی بیماری میں اس کا لڑکا مر گیا۔ جب کچھ دنوں کے بعد ایک اور شخص تعویذ کے لیے آیا تو جہاں پہلے رکھا تھا وہیں موجود پایا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا چونکہ اس لڑکے کی عمر پوری ہو چکی تھی اس واسطے تعویذ غائب ہو گیا۔ 


********************************************

اک خاص بات آپ سب کی خدمت میں۔۔۔۔۔

لوگ کہتے ہیں  “اللّٰہ مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے”

پر نادان نہیں جانتے کہ رنگ چڑھنے سے پہلے کپڑا سفید کیا جاتا ہے۔

دل کو سفید کر گناہوں سے توبہ کر،اپنی مرضی، خودی اور میل دھو ڈال حسد بغض نفس پرستی کو چھوڑ دے... 

پھر دیکھ، یار خود اپنا رنگ چڑھا دے گا۔♥️

یہی وہ رنگ ہے جس کا رب نے فرمایا۔۔۔ 

صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً   (سورۃ البقرہ 138)

“یہ ہے اللّٰہ کا رنگ، اور اللّٰہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے؟”

جب دل سفید ہو جائے تو رنگ اس کا چڑھتا ہے پھر بندہ نہیں رہتا بس یار ہی یار رہ جاتا ہے۔

تو یار کا رنگ جب چڑھتا ہے تو یار کی صفات بندے کے اندر آنا شروع ہوتی ہے تو جتنا صاف ہوتے جاؤ گے اتنی صفات یار کی تمہارے اندر آتی جائیں گی حتی کہ تم تم نہ رہو گے۔۔۔۔۔۔

 

(حدیث قدسی)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:

«إِنَّ اللَّهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَلا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ، كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ»

(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6502)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ میرا بندہ میرے قریب ہونے کے لیے کوئی عمل ایسا نہیں کرتا جو مجھے ان اعمال سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر فرض کیے ہیں۔

اور میرا بندہ نفل عبادتوں کے ذریعے برابر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں.پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے, اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں، اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور اپنی پناہ دیتا ہوں۔"

صحیح بخاری، کتاب الرقاق باب التواضع (حدیث نمبر 6502)


********************************************


[23:00, 5/21/2026] Saliha Zeshan Nizami: با ادب با ملاحظہ 

معلم : خواجہ طہ عامر نظامی 

دن :- جمعرات 

کلاس کا وقت :- 11:00pm to 11:40pm 

عنوان :- درس فوائد الفوائد 

تاریخ : 21 مئ 2026

 معاونہ : کمانڈنٹ صالحہ امینی

[23:00, 5/21/2026] Saliha Zeshan Nizami: سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !