بیان صدق اِرَادَت
منگل کے روز تیرہویں ماہ ذوالحج کو قدم بوسی کی دولت نصیب ہوئی۔ صدق ارادت کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کا ایک مریدلشکر میں ملازم تھا۔ جسے محمد شاہ کہتے تھے وہ جو اِرادہ کرتا خواب میں شیخ صاحب کو دیکھتا اور جس حالت میں دیکھتا ویسی ہی اس خواب کی تعبیر کرتا ۔ایک دفعہ اس نے ہندوستان آنے کا ارادہ کیا، رات کو خواب میں دیکھا کہ شیخ صاحب اجودھن جا رہے ہیں جب جاگا تو دل میں کہا کہ مجھے بھی اسی طرف جانا چاہیے ۔نہ شیخ سے کوئی بات سنی، نہ اشارہ دیکھا صرف اس قدر دیکھا کہ اجودھن جا رہے ہیں ۔اس نے ہندوستان کا ارادہ فسخ (منسوخ کرنا) کر کے اَجودھن جانے کا ارادہ کیا۔الغرض اس سفر میں اسے آرام و آسائش بہت حاصل ہوئی ،خواجہ صاحب نے فرمایا کہ یہ شاہ محمد غور کا رہنے والا تھا ،جو آخری عمر میں کعبہ کی زیارت کو گیااور پھر اس کی خیر نہ سنی۔
ایک شخص کا مرید ہونا
ہفتے کے روز پندرہویں ماہ محرم ا ا۷ ہجری کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا زبان مبارک سے فرمایا کہ ایک شخص نہایت بزرگ تھا ۔ایک شخص آکر اس کا مرید ہوا اورخرقہ پایا جیسا کہ اس کام کی رسم ہے ۔کچھ مدت بعد شیخ کو معلوم ہوا کہ مرید نے بُرے کام اختیار کیے ہیں تو شیخ اس کے گھر گیا اور کہا کہ میرے گھر میں آکر رہ، تو مجھے کیوں مشہور کرتا ہے آ میں تیری پردہ پوشی کروں گا ۔مرید نے یہ سن کر شیخ کے قدموں پر سر رکھا اور پھر بیعت اور توبہ کی۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔
جب یہ حکایت ختم ہو چکی تو میں (مؤلف کتاب) نے عرض کی کہ یہ امر مسلمہ ہے کہ پیر مرید کے احوال کو زیادہ تر دیکھے ۔اگر مریدوں کے احوال کو نہ دیکھے گا تو ان کے اعمال کو کیونکر دیکھ سکے گا لیکن اگر مریدوں کے اعتقاد کی طرف نگاہ کرے اور انہیں درست اعتقاد پائے تو مرید کو کچھ اُمید ہو سکتی ہے ۔فرمایا: بے شک اس بارے میں اصل اعتقاد ہے ،جس طرح ظاہر میں ایمان ہے اس طرح باطن میں یقین ہے ۔مرید کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور پیغمبر خداﷺکی رسالت پر اس کا ایمان درست ہو ،اسی طرح مرید کو بھی چاہیے کہ پیر کے حق میں اعتقاد درست رکھے جس طرح درستی ٔایمان کے سبب مومن گناہ ۜسے کا فرنہیں ہو سکتا اس طرح مرید درستی کے سبب لغزش سے نا اُمید نہیں جاتا اگر اس کا اعتقاد درست سے۔ تو پھر اصلاح کی اُمید ہو سکتی ہے۔
ذکر تلاوتِ قرآن
پھر تلاوت قرآن پاک اور اس کے حفظ کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی میں نے عرض کی اگر یاد نہ ہو سکے تو دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے؟ بہت اچھا ہے دیکھ کر پڑھنے میں بھی حفظ آتا ہے ۔بعد ازاں فرمایا کہ شیخ صاحب جس کو قرآن شریف حفظ کرنے کے لیے فرماتے۔ برائے حفظ قرآن اوّل سورہ یوسف،پہلے سورۃ یوسف یاد کرنے کا حکم دیتے جو شخص سورہ یو سف یاد کر لیتا ہے۔ اس کی برکت سے اسے سارا قرآن مجید یاد ہو جاتا ہے۔ اس موقعہ کے مناسب فرمایا کہ پیغمبر خداﷺفرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن شریف حفظ کرنے کی نیت کرے اور حفظ کے بغیر فوت ہو جائے تو جب اسے قبر میں رکھتے ہیں فرشتہ آکر اسے ایک بہشتی خریج ( چکوترا ۔ ایک قسم کا بڑا لیموں ) دیتا ہے جس کے کھانے سے سارا قرآن شریف حفظ ہو جاتا ہے اور قیامت کے دن وہ حافظ قرآن ہو کر اُٹھے گا۔
ذکر دانشمندان درویش صفت
پھر ان لوگوں کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی جو درویش صفت ہوتے ہیں اور ان میں نیک مردوں کے سے اخلاق پائے جاتے ہیں فرمایا کہ میں نے اس صفت کے آدمی مولانا شہاب الدین میرٹھی ،مولانا احمد اور مولانا کیتھلی دیکھے ہیں مولانا احمد کی بابت فرمایا کہ وہ مرد حافظ قرآن تھا ایک دفعہ میں نے شیخ کبیر کی زیارت کا اِرادہ کیا آپ کی وفات کے بعد حد و دسرستی (پہنچ یا اختیار کی حد)میں میری ملاقات مولانا احمد سے ہوئی مجھے کہا کہ جب روضہ شیخ پر پہنچو تو میر اسلام پہنچا دینا اور کہنا کہ مجھے دنیا کی طلب نہیں ،اس کے طالب اور بہت ہیںاور نہ ہی آخرت طلب کرتا ہوں ،میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بحالت مسلمانی فوت کرے اور نیک لوگوں سے ملائے۔ پھر مولانا کیتھلی کے بارے میں فرمایا کہ وہ بہت ہی بابرکت بزرگ تھا، اگر چہ کسی سے اسے علاقہ نہ تھا لیکن مردان خدا کا دیدار اس نے بہت کیا تھا ۔پہلی مرتبہ جب میں نے اسے دیکھا ،تو اس کی تقریر سے معلوم ہوا کہ وہ مرد و اصل ہے کوئی بات میرے دل میں تھی وہ میں نے اس سے پوچھی۔ جواب دیا وہ اس طرح ہے۔ خواجہ صاحب نے آبدیدہ ہو کر فرمایا اگر وہ مشکل سو مجتہد عالموں سے بھی پوچھی جاتی تو بھی وہ حل نہ ہوتی ،نیز اس کے اخلاق کی بابت فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس آیا ہوا تھا اسی اثناء میں میرے خدمت گار بشیر نے جولڑ کا ہی تھا کچھ بے اَدبی کی، میں نے اسے چھڑی ماری تو مولانا کیتھلوی کو ایسا درد ہوا کہ گویا وہ لکڑی انہیں ماری گئی ہے ،رونے لگے اور فرمایا کہ یہ میری شامت کی وجہ ہے کہ اسے تکلیف پہنچی خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اس وقت اس کی شفقت دیکھ کر مجھ پر رِقت طاری ہوئی۔
اس کی بزرگی کی بابت ایک اور حکایت بیان فرمائی کہ اس کی زبانی میں نے سنا کہ ایک سال دہلی میں قحط پڑا جن دِنوں کہ ملک قطب الدین حسن کا واقعہ گزراہے ،میں کر پاسی بازار میں کھانا خریدنے کے لیے گیا جب خریدا تو خیال کیا کہ اسے اکیلے نہیں کھانا چاہیے کسی کو اپنا ہم لقمہ بنانا چاہیے، ایک گدڑی پوش فقیر کو دیکھا جو میرے پاس سے گزرا ،میں نے اسے کہا: صاحب ! آپ بھی درویش ہیں اور میں بھی درویش ہوں۔ میں غریب الوطن ہوں اور آپ بھی مسافر معلوم ہوتے نہیں آؤ! کچھ کھانا مل کر کھا لیں وہ درویش مان گیا۔ہم نانبائی کی دکان پر گئے اور کھانا کھایا اسی اثناء میں میں نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا کہ میرے پاس میں تھیلیاں پیسوں کی ہیں میں انہیں ذخیرہ رکھنا چاہتا ہوں۔ درویش نے کہا: فراخ دلی سے کھانا کھاؤ میں تجھے تھیلیاں دوں گا میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ پھٹے پرانے کپڑوں والا مجھے کس طرح اتنے دام دے گا، الغرض کھانے سے فارغ ہو کر مجھے نماز گاہ کی طرف لے گیا نماز گاہ کے پیچھے ایک قبر تھی اس پر کھڑے ہو کر کچھ پڑھا اور چھڑی جو ہاتھ میں تھی آہستہ سے دو تین مرتبہ اس پر لگائی اور کہا کہ اس درویش کو میں تھیلیاں داموں کی دینی ہیں اسے دے۔ یہ کہہ کر آسمان کی طرف منہ کیا اور کہا: جاؤ مولانا ! آپ کو مل جائیں گی یہ سن کر ہاتھ کو بوسہ دے کر واپس چلا آیا۔ میں اسی حیرت میں تھا کہ مجھے کہاں سے ملیں گی میرے پاس ایک خط تھا جو کسی کے گھر پہنچانا تھا، میں اسی روز وہ خط پہنچانے گیا میں دروازہ کمال کے پاس پہنچا تو ایک ترک کو اپنے گھر کے چھجے پر بیٹھا دیکھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر آواز دی اور غلاموں کو میرے پیچھے دوڑایا ،آخر مجھے اوپر لے گئے اور وہ ترک بڑی خندہ پیشانی اور خوش خلقی سے پیش آیا میں نے بہت کوشش کی لیکن اسے پہچان نہ سکا ترک بھی کہنے لگا تو وہ عالم تو نہیں جس نے فلاں مقام پر میرے ساتھ یہ نیکی کی تھی ۔میں نے کہا: میں نے تو کوئی نیکی نہیں کی اس نے کہا: میں تجھے پہچانتا ہوں تو کیوں اپنے تئیں چھپاتا ہے ،الغرض بیس تھیلیاں داموں کی لا کر معذرت سے میرے ہاتھ میںدے دیں۔
خواجہ صاحب نے اس مولانا کیتھلی کی زندگی کے بارے میں فرمایا کہ تنہا کھانا نہ کھانے کی جو عادت ان میں تھی وہی اس کے راستے کو نیک بناتی ہیں، دوسرے اخلاق کا کیا ہوگا۔ پھر فرمایا کہ میں سفر کرتے کرتے سرستی کی حدود میں پہنچا تو میں نے سنا کہ کل اس راہ میں ڈاکہ پڑا اور بہت سے مسلمان ہندوؤں کے ہاتھ سے مقتول ہوئے۔ ایک ان میں عالم تھا جسے کیتھلی کہتے تھے وہ قرآن شریف پڑھ رہا تھا اسی حالت میں شہید ہوا ،خواجہ صاحب نے فرمایا: میرے دل میں خیال گزرا کہ ہو نہ ہو وہ مولانا کیتلی ہوں گے جب لاشوں کو جا کر دیکھا اور فاتحہ پڑھ کر غور سے دیکھا تو آپ ہی تھے۔
بدھ کے روز تیسری ماہ ربیع الاوّل سن مذکور کو قدمبوسی کی دولت نصیب ہوئی اس دفعہ ایک مہینے بعد حاضر ہوا تھا کبھی اس قدر غیرحاضری نہیں ہوئی تھی ۔آپ نے فرمایا کہ اس وقت فاضلوں کا ذکر ہو رہا تھا کہ تو آپہنچا میں دوبارہ آداب بجالایا۔ بعد ازاں فرمایا کہ خواجہ شمس الملکؒکی یہ عادت تھی کہ اگر کوئی شاگرد ناغہ کرتا یا کوئی دوست دیر کے بعد آتا تو فرماتے کہ میں نے ایسا کونسا کام کیا ہے؟ کہ تو نہیں آتا۔ بعد ازاں مسکرا کر فرمایا کہ اگر کسی کو دل لگی کرتے، تو بھی یہی فرماتے کہ میں نے کیا کیا ہے؟ جو تو نہیں آتا تا کہ میں وہی کروں بعد ازاں فرمایا کہ اگر میں ناغہ کرتا یا دیر بعد حاضر خدمت ہوتا تو میرے دل میں بھی یہی خیال آتا کہ مجھے بھی یہی کہیں گے۔۔۔۔۔
؎ آخر کم از انکہ گاہ گا ہے آئی و بما کنی نگا ہے
***************************
یہ شعر فارسی کے عاشقانہ و عارفانہ انداز کا ایک خوبصورت نمونہ ہے:
**آخر کم از آن کہ گاہ گاہے آئی و بما کنی نگاہے**
ترجمہ:
کم از کم اتنا تو ہو کہ کبھی کبھی "تم آؤ اور ہم پر ایک نگاہِ کرم ڈال جاؤ۔" یا
اگر وصالِ کامل نصیب نہیں ہوتا تو کم از کم کبھی کبھار ہماری طرف التفات ہی فرما دو۔"
صوفیانہ تشریح
صوفیانہ ادب میں **محبوب** سے مراد اکثر اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے، اور **نگاہ** سے مراد رحمت، عنایت، تجلی اور توجہِ خاص۔
شاعر عرض کرتا ہے:
اے محبوبِ حقیقی! ہم اس قابل نہیں کہ ہر وقت قرب نصیب ہو، لیکن کم از کم کبھی کبھی اپنی رحمت و عنایت کی نگاہ تو فرما۔
یہ وہی کیفیت ہے جسے صوفیہ **شوقِ دیدار** اور **انتظارِ تجلی** کہتے ہیں۔ سالک اپنے اعمال پر بھروسا نہیں کرتا بلکہ محبوب کی ایک نظرِ کرم کا طالب رہتا ہے۔
قرآن کریم کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: **"فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ"**
"تومیرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔"(البقرہ 2:152)
صوفیہ کہتے ہیں کہ بندے کا ذکر کرنا طلب ہے اور اللہ کا یاد کرنا عطا ہے۔ شاعر بھی اسی عطا کی ایک جھلک مانگ رہا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
**"وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ"**
"اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو۔" (الحدید 57:4)
لیکن سالک کو اس معیت کا شعور ہر وقت حاصل نہیں ہوتا، اس لیے وہ "نگاہ" یعنی اس معیت کے ذوق اور احساس کی دعا کرتا ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
حدیثِ قدسی میں آتا ہے:
میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔"(صحیح بخاری)
یہ قرب دراصل اسی "نگاہِ کرم" کا اعلیٰ درجہ ہے جس کی تمنا شاعر کر رہا ہے۔
ایک اور حدیثِ قدسی میں ہے:
"جو میری طرف ایک بالشت آتا ہے، میں اس کی طرف ایک ہاتھ آتا ہوں۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی طلب پر رب کی رحمت بڑھ کر متوجہ ہوتی ہے۔
مشائخِ چشت کے اقوال کی روشنی میں
خواجہ معین الدین چشتی ؒ
آپ فرماتے ہیں:"محبت وہ آگ ہے جو دل میں روشن ہو جائے تو غیر اللہ کو جلا دیتی ہے۔"
عاشق کی سب سے بڑی آرزو محبوب کی توجہ ہوتی ہے۔ اس شعر میں بھی عاشق کسی مادی نعمت کا طالب نہیں بلکہ صرف ایک نگاہ کا سوالی ہے۔
خواجہ قطب الدین بختیار کعکی ؒ
آپ کے ملفوظات میں بار بار " نظرِ کرم" اور "توجہِ شیخ" کی اہمیت ملتی ہے۔ چشتیہ کے نزدیک ایک لمحے کی روحانی توجہ برسوں کی ریاضت پر بھاری ہو سکتی ہے۔
حضرت نظام الدین اولیاءمحبوبِ الٰہی ؒ
آپ فرماتے تھے: "راہِ محبت میں اصل سرمایہ لطفِ الٰہی ہے، نہ کہ اپنے عمل کا غرور۔"
یہ شعر بھی اسی حقیقت کا ترجمان ہے کہ عاشق اپنے عمل پر نہیں بلکہ محبوب کی عنایت پر نظر رکھتا ہے۔
باطنی مفہوم:اس شعر کے دو درجے ہیں:
1. **ظاہری معنی:** عاشق اپنے محبوب سے ملاقات اور التفات کی درخواست کرتا ہے۔
2. **باطنی معنی:** سالک اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ اگر دائمی حضور نصیب نہیں تو کم از کم کبھی کبھی ایسی کیفیت عطا فرما جس میں تیرے قرب، محبت اور تجلی کا ذوق محسوس ہو۔
صوفیہ کے نزدیک **"ایک نگاہِ کرم"** انسان کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ اسی لیے شاعر وصال، کرامات یا دنیاوی نعمتیں نہیں مانگتا، بلکہ صرف اتنی دعا کرتا ہے کہ محبوب کبھی کبھار اپنی رحمت کی نظر فرما دے۔
یہی چشتیہ مسلک کی روح بھی ہے: **طلب، محبت، عجز، اور محبوبِ حقیقی کی عنایت کا انتظار۔**
*******************************
خواجہ صاحب یہ شعر پڑھ کر آبدیدہ ہوئے چنانچہ حاضرین پر رقت طاری ہوئی حاضرین میں سے ایک نے پوچھا میں نے سنا ہے کہ جن دنوں آپ شمس الملک کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے تو آپ کی بڑی تعظیم کیا کرتے تے اور چھجہ میں اپنے خاص مقام میں بٹھایا کرتے تھے ،فرمایا ہاں! جہاں پر وہ بیٹھا کرتے تھے فرمایا: وہاں پر قاضی فخر الدین ناقلہ یا مولانا برہان الدین بیٹھا کرتے تھے اور جب کبھی مجھے وہاں پر بیٹھنے کا حکم ہوتا تو کہتا کہ یہ
آپ کا مقام ہے ،میں بہت عذر کرتا لیکن ایک نہ مانتے آخر مجھے بھی وہاں بٹھاتے۔
*******************************************************
[23:16, 09/06/2026] taha nizami:
سلام علیکم طبتم میرے تمامی یاران طریقت کی خدمت میں سلام عاجزانہ قبول ہو۔
تو چلتے ہیں دربار محبوب الٰہی میں
