google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.21

DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.21

0




 ذکر کشائش رزق

منگل کے روز انتیسویں ماہ مذکورسن مذکور کو قدمبوی کا شرف حاصل ہوا ایک نے آکر اپنے احوال کے انتظام کے لیے مدد طلب کی۔ فرمایا: جنگی معاش دور کرنے کیلئے ہر رات سورۂ جمعہ پڑھا کرو بعد ازاں فرمایا کہ شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز فرمایا کرتے تھے ہر جمعرات کو پڑھنی چاہیے لیکن میں کہتا ہوں کہ ہر رات پڑھنی چاہیے میں نے اپنے لیے کبھی نہیں پڑھی کسی اور کے لیے پڑھتا ہوں ۔اسی اثناء میں ایک حکایت بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ میرا گزر چند ایسے اشخاص کی مجلس کے پاس سے ہوا جو صوفیوں کے لباس میں تھے ۔ان میں سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا تیرا روزگار اچھا ہو جائے گا اور تیرے لیے اسباب مہیا ہوں گے اور تیری روزی فراخ ہو جائیگی میں نے چاہا کہ کہوں کہ خواجہ صاحب ! جس لباس میں آپ ہیں اس لباس والے ایسی تعبیر نہیں کیا کرتے۔ پھر خیال آیا کہ میری کیا ہستی ہے جو جواب کہوں بغیر کچھ کہے میں پاس سے گزر گیا، جب خواجہ صاحب نے یہ حکایت ختم کی تو جو شخص مدد طلب کرنے کے لیے آیا تھا اس نے عرض کی اے مخدوم! لوگوں کے لیے فراخ روزی اور اسباب کا مہیا ہونا ضروری ہے ۔خواجہ صاحب نے مسکرا کر فرمایا کہ یہ حکایت میں نے اپنے حال کی بابت بیان کی ہے نہ کہ تیرے حال کی بابت ۔

تجدید بیعت 

جمعرات کے روز چھٹی ماہ رجب سن مذکور کو قدم بوسی کی دولت حاصل ہوئی اس روز میں نے مع چند اور یاروں کے از سر نو بیعت کی اس حال کے مناسب یہ حکایت بیان فرمائی کہ جب پیغمبر خداﷺنے ملے کا اِرادہ کیا تو فتح سے پہلے امیر المؤمنین عثمان غنیؓ کو بطور قاصد اہل مکہ کے پاس بھیجا ۔اسی اثناء میں رسول خداﷺکو خبر دی گئی کہ حضرت عثمان ؓ شہید ہو گئے ہیں۔ یہ خبر سن کر صحابہ رضی اللہ عنھم کو بلایا کہ آکر پھر بیعت کرو تا کہ ہم اہل مکہ سے لڑائی کریں، یاروں نے بیعت کی اس وقت رسول خداﷺدرخت کے تنے پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ اس بیعت کو بیعت ِرضوان کہتے ہیں۔ اسی اثناء میں ایک صحابی الاکوع نام آیا(سَلَمَةُ بنُ عَمرو بنِ الأَکوَع الأسلمی رضی اللہ عنہ یہ جلیل القدر صحابی بیعتِ رضوان (حدیبیہ) کے موقع پر موجود تھے، بلکہ روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے ان سے دو یا تین مرتبہ بیعت لی) اور بیعت کی، آنحضرتﷺ نے پوچھا کہ تو نے اس سے پہلے تو بیعت نہیں کی؟ عرض کی ،اس وقت از سر نو پھر بیعت کرتا ہوں(تجدید کیلئے)،حضور ﷺ نے اسے بیعت فرمایا۔ بعد ازاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ یہ تجدید ِبیعت   وہیں سے شروع ہوئی۔

 ذکر بیعت بجامۂ شیخ 

بعد ازاں فرمایا کہ اگر کوئی مرید از سر نو بیعت کرنا چاہے اور شیخ موجود نہ ہو تو شیخ کا جامہ سامنے رکھے اور اس کپڑے سے بیعت کرے ۔اسی اثناء میں فرمایا کہ تعجب نہیں کہ شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز نے بھی بار ہا ایسا کیا ہو اور میں نے تو بار ہا ایسا کیا۔

ذکر حُسنِ اعتقاد

پھرحسنِ اعتقاد کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ میں نے شیخ رفیع الدین کی زبانی سنا ہے جو شیخ الاسلام اودھ تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس سے قرابت تھی کیونکہ وہ خواجہ اجل شیرازی ؒکا مرید تھا ایک دفعہ اس مرید کو کوئی تہمت لگا کر گرفتار کیا گیا اور قتل کرنے لگے، قاتل نے اسے قبلہ رُخ کھڑا کیا جس کے سبب اس کی پیٹھ اپنے پیر کی قبر کی طرف ہوتی تھی، فوراً اس نے رُخ پھیر لیا اور اپنے پیر کی طرف رُخ کیا۔ قاتل نے کہا کہ اس موقعہ پر تو رُو بقبلہ ہونا چاہیے، تو کیوں رُخ پھیرتا ہے اس نے کہا: میں نے اپنے قبلہ پیر کی قبر کی طرف رُخ کیا ہے تو اپنا کام کر ۔

ٍ اس حکایت کو لے کر ایک اور حکایت بیان فرمائی کہ ایک دفعہ میں سفر پر جارہا تھا ایک روز ایک منزل میں سخت تکلیف پائی، اگر چہ میں سوار تھا لیکن پیاس نے بڑی سخت تکلیف دی ،پانی کے کنارے پہنچے کر گھوڑے سے اُتر کر پانی چاہا میرے دل کو سخت پیاس لگی اور صفراء کا زور ہوا اس حالت میں، میں بیہوش ہو گیا تو زبان سے شیخ، شیخ کی آواز نکلی ایک گھڑی یوں میں نے ہوش سنبھالی ،الغرض اس کے بعد مجھے اپنے کام کے انجام پر وثوق ہو گیا، اُمید ہے کہ انشاء اللہ ان کی یاد پر میرا خاتمہ ہوگا۔ 

ٍ اتوار کے روز تیئسویں ماہ مذکورسین مذکور کو قدم بوسی کی سعادت نصیب ہوئی قبروں کی زیارت کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی فرمایا کہ جب میری والدہ صاحبہ کو بیماری لاحق ہوئی تو کئی بار مجھے فرمایا کہ فلاں شہید کی زیارت کے لیے جاؤ اور فلاں بزرگ کے مزار پر جاؤ میں فرمان کے مطابق جاتا جب آتا تو فرما تھیں کہ بیماری میں تخفیف ہے اور تکلیف کم ہے۔

پھر یہ حکایت بیان فرمائی کہ جب شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز بیمار تھے تو مجھے ایک مرتبہ وہاں کے شہیدوں کی زیارت کے لیے بھیجا ،جب میں واپس آیا تو فرمایا کہ تیری دعا نے مجھ پر اَثر نہیں کیا مجھے کوئی جواب بن نہ آیا۔ ایک یار علی بہاری نام جو پیچھے کھڑا تھا کہا کہ ہم ناقص ہیں اور شیخ کی ذات مبارک کامل ناقصوں کی دعائیں کاملوں کے حق میں کس طرح اَثر کر سکتی ہیں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ یہ بات شیخ صاحب نے نہ سنی پھر میں نے عرض کی تو فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ خواہش کی ہے اس کی جو خواہش ہو پورے کرے۔ پھر مُجھے عصاء عنایت کر کے فرمایا کہ تم اور بدر الدین اسحاق  ؒ جاؤ اور اسی مقبرہ میں جا کر مشغول رہو ،ہم دونوں گئے اور رات بھر یاد الٰہی میں مشغول رہے جب واپس حاضر خدمت ہوئے تو فرمایا کہ اب کچھ اَثر ہوا۔

ختم سورۂ فاتحہ 

اسی اثناء میں یہ حکایت بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ مجھے فرمایا مناسب ہے کہ تم اور باقی کے تمام یار  مل کر ایک لاکھ مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھو اور یاروں کو اس بات کی اطلاع کرو! میں نے اطلاع کی ہر ایک نے کچھ مقدار منظور کی ایک نے پانچ ہزار مرتبہ دوسرے نے دو ہزار کسی نے کم کسی نے زیادہ بار پڑھنا منظور کیا میں نے دس ہزار مرتبہ پڑھنا منظور کیا تقریبا ایک ہفتے کے اندر ختم کر لیا۔ بعد ازاں میں (مؤلف کتاب) نے عرض کی کہ یہ سب کچھ  حالت مرض میں ہوا۔ فرمایا۔ نہیں اس سے پہلے کا ذکر ہے معلوم نہی کوئی اور غرض ہوگی۔ 






********************************************************

[23:48, 5/19/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں





Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !