google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.2- خاصانِ خدا

DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.2- خاصانِ خدا

0




مختلف مسائل میں

جمعہ کے روز آٹھویں ماہ شعبان ۷۷ ہجری کو نماز کے بعد قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا میرا ،غلام ملیح نام تھا۔ اسے میں نے خواجہ صاحب کے رو برو ارادت کے سلسلے (یعنی مرید ہونے کے شکرانے) میں آزاد کیا ،اس کے حق میں دُعائے خیر کی۔ اسی وقت اس غلام نے جناب کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ اور بیعت سے مشرف ہوا۔ اس اثناء میں خواجہ صاحب نے زبان مبارک سے فرمایا کہ اس راہ میں خواجگی اور غلامی کی کوئی تمیز نہیں جو عالم محبت میں راست (قلبی سچائی کے ساتھ ) آتا ہے اس کا کام بن جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ غزنی میں ایک پیر کا ایک غلام زیرک تھا ،وہ غلام نہایت صادق اور صالح تھا۔ جب اس پیر کا آخری وقت نزدیک آ پہنچا تو مریدوں سے پوچھا!

کہ میرا قائم مقام کون ہو گا؟ سب نے کہا: زیرک ۔

اس پیر کی چار لڑکے تھے۔۱۔ اختیار۔۲۔ اجلد۔۳۔احباء۔۴۔حوا۔

زیرک نے عرض کی ،اے خواجہ مجھے آپ کے فرزند آپ کا قائم مقام نہیں ہونے دیں گے ۔

انہیں ضرور مجھ سے دشمنی ہوجائےگی۔پیر نے کہا تو اطمنان سے بیٹھ۔ اگر وہ تجھ سے جھگڑا  کریں گے تو میں ان کی شرارت تجھ سے رفع کر دوں گا۔الغرض جب پیر صاحب کا وصال ہوگیا تو زیرک اس کا قائم مقام ہوا۔پیر کےلڑکوں نے جھگڑا شروع کیا، کہ تو ہمارے باپ کا غلام ہو کر ہمارا قائم مقام بنتا ہے ،جب معاملہ حد سے گزر گیا توزیر پیر کے روضے پر آیااور کہا اے خواجہ! آپ نے کہا تھا کہ اگر میرے لڑکے تجھ سے جھگڑا کریں ،تو میں ان کا شرتجھ سے رفع کردوں گا، اب و ہ میرے ایذا کے دَر پے ہیں ،سو آپ کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔یہ کہہ 

کر وہ اپنے مقام پر واپس آگیا۔

اِنہی دِنوں کافر غزنی پر حملہ آور ہوئے ،لوگ لڑائی کے لیے باہر نکلے وہ چاروں لڑکے بھی لڑائی میں شامل تھے۔وہ چاروں مارے گئے۔ اور وہ مقام بلا روک ٹوک زیرک کو ہی ملا۔ ملیح مذکور کومرید کرنے کے بعددہ گا ہ نماز کیلئے فرمایا:آنجناب سے پوچھا کہ اس  دوگانہ کی نیت کیسے کرنی چاہیے؟ فرمایا  نفی ماسوائے اللہ کیلئے۔

عام لوگوں میں خاص کا ہونا

۱۴ ماہ شعبان۷۰۷؁ھجری مذکور کو نماز کے بعد قد مبوسی کا شرف حاصل ہوا  ایک جوالق (ملنگ) آکر تھوڑی دیر بیٹھ کر چلاگیا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اسی وجہ سے ایسے لوگوں کو شیخ الا سلام شیخ بہاء الدین زکریا   ؒ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا تھا۔ لیکن شیخ الاسلام فرید الدین ؒ  کی خدمت میں ہر قسم کے درویش وغیرہ حاضر ہوا کرتے تھے ۔پھر  فر مایا کہ عام لوگوں ہی میں خاص بھی ہوا کرتے ہیں۔ اس بارے میں ایک حکایت بیان فرمائی کہ شیخ بہاؤ الدین ز کر یاؒ سیرکیا کرتے تھے ،ایک دفعہ جو القیوں(ملنگ) کے ایک گروہ کے پاس جانکلے ، ان کے درمیان بیٹھ گئے۔ وہاں پر نور جمع ہو گیا جب اچھی طرح غور کیا تو معلوم ہوا کہ انہیں میں سے ایک سے نور نکل رہا ہے۔ اس کے پاس جا کر آہستہ سے پوچھا کہ ان لوگوں میں تو کیا کرتا ہے؟ جواب دیا، اس واسطے کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ عام لوگوں میں خاص بھی ہوا کرتے ہیں ۔

پھر اس بارے میں ایک اور حکایت بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ ایک گزرگ نے ایک گروہ میں اسی بابت پوچھا: ایک کو دیکھا جو دورکعت میں قرآن شریف ختم کرتا تھا ۔وہ بزرگ حیران رہ گیا اور دل میں کہا کہ اس مسکن میں کہ یہ مرد رہتا ہے، اس قسم کی عبادت واقعی تعجب کے قابل ہے اس کام میں کس طرح مستقیم رہ سکتے ہیں ۔الغرض جب ان سے آگے چلا گیا تو پھر دس سال بعد انہیں لوگوں کے پاس آیا تو پھر اس شخص کوویسا ہی پایا ۔تو پھر کہا کہ اب مجھے حقیقتاًمعلوم ہو گیا ہے کہ عام لوگوں میں خاص بھی ہوا کرتے ہیں۔


ایام بیض کے روزوں اور نوافل اوّا بین کے بارے میں

جمعہ کے روز بائیسویں ماہ شعبان ۷۰۷؁ ہجری کو نماز کے بعد قد مبوسی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ نے پو چھا کہ عشاء کے مابیں جو چھ رکعت کے لیے کہا ہوا ہے ادا کرتا ہے؟ عرض کی جناب کرتا ہوں بعد ازاں ایامِ بیض کے روزوں کی بابت پو چھا کہ روزے رکھتا ہے؟ عرض کی جناب رکھتا ہوں ۔پھر چاشت کی نماز کی بابت پوچھا عرض کی ادا کرتا ہوں۔ 

بعد چار رکعت صلو ۃالسعادت کی بابت فر مایا۔ اس روز سعادت پر اور سعادت مل گئی ۔ 

الحَمدُ لِلهِ عَلَى ذلِكَ


-----------------------------------------------------------------------------------------------
-----------------------------------------------------------------------------------------------
-----------------------------------------------------------------------------------------------


[22:26, 3/30/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں


[22:45, 3/30/2026] taha nizami: 

میرے محبوب الٰہی سیدی سلطان جی

حشر میں بابا نظام الاولیاء کا ساتھ ہو

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !