واہ واہ یہ شام امیر خسرو ؒکے نام
اے سروِ نازنینِ من، از من چہ دیدہ ای
یک بار مہر از منِ مسکیں، بُریدہ ای
اوّل وفا نمودی و بُردی دل مرا
آخر چہ شد کہ عارض از من کشیدہ ای
آرے بہ سیم و زر ہمہ کس بندہ می خرید
ما بندہء تویم کہ بے زر خریدہ ای
فخرم بسست ایں کہ کمینہ سگِ تویم
نازم بر آں زماں کہ بہ لطفم خریدہ ای
خسروؔ تو بس بلند شدی در طریقِ عشق
گویا بہ پائے بوسہ سگانش رسیدہ ای
کلام: طوطیِ ہند حضرتِ خواجہ امیرخسروؔ دھلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
----------------------------------------------------------
[11:23, 6/8/2026] SALMAN RAZA Habibi:
.معذرت کے ساتھ اس غزل میں فکری گہرائی کی کمی ہے
یہ غزل خالصتاً جذباتی ہے۔ اس میں غالب یا اقبال کی طرح کوئی گہرا فلسفیانہ نکتہ یا زندگی کی کوئی نئی تشریح موجود نہیں ہے۔ یہ صرف ایک عاشق کی فریاد اور اس کی عاجزی تک محدود ہے۔اس کی خوبی اس کی لاگ لپیٹ سے پاک محبت ہے، اور اس کی کمزوری اس کا قدامت پسند اسلوب ہے۔ مادی فائدے سے بالاتر ہو کر بے زر غلام بننے کا تصور اچھا ہے
(طہ بھائی اس میں لکھ دیں محبت ، عقیدت تعلق جو ہم لوگوں کا مرشد سے، تو چار چاند لگ جائیں گے)
[11:36, 6/8/2026] Mohiyyudeen Nizam: 8:18
امینی شکریہ بر تبصرہ ء حضرت سلمان رضا
تشکر ءمکرر بخدمت حضرت سلمان رضا
تبصرہ بر تبصرہ مفتیان سندھ
محفل خسروی برخاست بر مکتوب ء نصیحت از حضرت سید سلمان رضا(م ظ)
افگندہ کاکل یک طرف زلف چلیپا یک طرف
سلطان خوباں می رود گرد ہجوم عاشقاں
چابک سواراں یک طرف مسکیں گدایاں یک طرف
نوشی شراب لعل او شد مجلس ما بے خبر
جام و صراحی یک طرف مستان رسوا یک طرف
تا بر رخ زیبائے تو افتادہ زاہد را نظر
تسبیح زہدش یک طرف ماندہ مصلیٰ یک طرف
بے چارہ خسروؔ خستہ را خوں ریختن فرمودہ است
خلقے بمنت یک طرف واں شوخ تنہا یک طرف
حضرت امیر خسرو کے اس کلام میں عشقِ حقیقی، فنا فی المحبوب، اور تجلیِ الٰہی کے اسرار پوشیدہ ہیں۔ صوفیاء کے نزدیک محبوب سے مراد صرف ظاہری حسن نہیں بلکہ ذاتِ حق تعالیٰ، یا اُس کے محبوب بندے یعنی محمد ﷺ کی جمالیاتی تجلی بھی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس کلام کو محض عشقیہ شاعری سمجھنا اس کے باطن سے ناواقفیت ہوگی۔
نوشی شرابِ لعلِ او شد مجلسِ ما بے خبر
جام و صراحی یک طرف، مستانِ رسوا یک طرف
صوفیانہ اصطلاح میں “شراب” سے مراد عشقِ الٰہی کی وہ کیفیت ہے جو عقلِ جزوی کو مغلوب کر دے۔ “لعلِ او” محبوب کے لب ہیں، یعنی وہ کلامِ حق یا تجلیِ محبوب جسے سن کر سالک اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
**اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ**
> “خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔” (سورۃ الرعد: 28)
صوفیاء کہتے ہیں کہ جب دل پر ذکر اور محبتِ الٰہی کی کیفیت غالب آتی ہے تو ظاہری اسباب کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے خسروؔ فرماتے ہیں کہ ایک طرف جام و صراحی رہ گئے اور دوسری طرف وہ عاشق ہیں جو عشق میں رسوا و بے خود ہو چکے ہیں۔
یہی کیفیت حدیثِ قدسی میں ملتی ہے:
“میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔”
( صحیح بخاری)
جب بندہ محبوبِ حقیقی کے قرب میں آتا ہے تو دنیا کی لذتیں ہیچ محسوس ہوتی ہیں۔
---
تا بر رخِ زیبائے تو افتادہ زاہد را نظر
تسبیحِ زہدش یک طرف، ماندہ مصلیٰ یک طرف
یہاں “زاہد” اُس شخص کی علامت ہے جو صرف ظاہری عبادت میں مشغول تھا، مگر جب اس نے محبوبِ حقیقی کے جمال کی جھلک دیکھی تو رسمی زہد و ریاضت کی حقیقت اس پر کھل گئی۔
یہ ترکِ عبادت نہیں بلکہ عبادت سے حقیقتِ عبادت تک کا سفر ہے۔
قرآن کہتا ہے:
**فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ**
“تم جدھر بھی رخ کرو، اُدھر اللہ ہی کا چہرہ ہے۔” (سورۃ البقرہ: 115)
صوفیاء کے نزدیک جب بندہ ہر شے میں تجلیِ حق دیکھنے لگتا ہے تو اس کی عبادت رسم سے عشق بن جاتی ہے۔
حضرت رابعہ بصری فرمایا کرتی تھیں:
“میں نہ جنت کے شوق میں عبادت کرتی ہوں نہ جہنم کے خوف سے، بلکہ صرف اللہ کی محبت میں عبادت کرتی ہوں۔”
اسی مفہوم کو خسروؔ نے شعری پیرائے میں بیان کیا کہ جب حسنِ حقیقی کی جھلک نصیب ہوئی تو تسبیح اور مصلّٰی کی ظاہری حیثیت ثانوی رہ گئی۔
---
بے چارہ خسروؔ خستہ را خوں ریختن فرمودہ است
خلقے بمنّت یک طرف، واں شوخ تنہا یک طرف
یہ شعر فنا فی المحبوب کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ “خون ریختن” سے مراد نفس کا قتل، انا کی موت، اور خودی کا مٹ جانا ہے۔
قرآن میں ارشاد ہے:
**قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا**
“بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ رکھا۔”
( سورۃ الشمس: 9-10)
صوفیانہ راہ میں عاشق کو اپنی خواہشات، غرور اور نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اسی کو اہلِ تصوف “موت قبل الموت” کہتے ہیں، یعنی مرنے سے پہلے اپنے نفس کو فنا کر دینا۔
حدیث شریف ہے:
“کوئی شخص اُس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اُس کی خواہشات اُس دین کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔”( مشکوٰۃ المصابیح)
“خلقے بمنّت یک طرف” کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا ایک طرف ہے، مگر محبوبِ حقیقی کی ایک ادا، ایک نگاہ، ایک تجلی سب پر بھاری ہے۔
---
مجموعی صوفیانہ پیغام
یہ کلام انسان کو ظاہر سے باطن کی طرف بلاتا ہے۔
* شراب = عشقِ الٰہی
* زلف = تجلیاتِ حق
* رسوائی = فنا فی اللہ
* زاہد = رسمی دینداری
* خونِ خسروؔ = نفس کی قربانی
حضرت خسروؔ دراصل یہ بتاتے ہیں کہ جب بندہ حقیقتِ عشق تک پہنچتا ہے تو عبادت محض عمل نہیں رہتی بلکہ دیدار، محبت اور قربِ الٰہی کی کیفیت بن جاتی ہے۔
اسی لیے صوفیاء کہتے ہیں: “عشق وہ آگ ہے جو غیرِ خدا کو جلا دیتی ہے۔”
اور قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
**يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُ**
“اللہ اُن سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔”( سورۃ المائدہ: 54)

