درس فوائدالفوائد
آسمان سے عیدی کا ملنا
اس نے بہت سی باتیں کیں فرطِ شکوہ کے سبب اس کا نام اور لقب نہ پوچھا گیا جب کبھی مجھ سے ملتا کوئی نہ کوئی حکایت بیان کرتا، جب پہلی مرتبہ مجھ سے ملا تو کہا کہ انشاء اللہ تو ویسا ہی ہو گا جیسا لوگوں کا اعتقاد تیری نسبت ہے ،بعد ازاں خواجہ صاحب نے اس کی بڑی تعریف کی فرمایا کہ دوسری مرتبہ جب اس سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ لاہور میں ایک شخص شیخ وندول نام نہایت بزرگ تھا۔ عیدکے روز جب خلقت واپس آئی تو اس شخص نے آسمان کی طرف منہ کر کے کہا آج عید ہے ہر ایک غلام اپنے آقا سے عیدی لیتا ہے ،مجھے بھی عیدی دے جب یہ بات کہی ،تو آسمان سے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا گر ا جس پر لکھا تھا کہ ہم نے تری ذات کو دوزخ کی آگ سے نجات دی۔ جب خلقت نے دیکھا تو اس کے ہاتھ پاؤں چومنے شروع کیے اور بڑی عزت اور آؤ بھگت کرنی شروع کی اسی اثناء اس شیخ کا ایک دوست آیا اس نے کہا کہ تو نے تو اللہ تعالیٰ سے عیدی لی ہے، تو مجھے دے۔ شیخ نے جب یہ بات سنی تو وہ ریشمی کپڑا دے دیا اور کہا: جاؤ! یہ تمہاری عیدی ہے قیامت کو میں اور دوزخ آپس میں نپٹ لیں گے۔
بعد ازاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ پھر ایک مرتبہ اس سے میری ملاقات ہوئی تو کہا کہ مجھ سے یہ حکایت سن کہ ایک شہر میں کوئی بہت مالدار برہمن رہتا تھا۔ شاید اس پر شہر کے حاکم نے جرمانہ کیا اس کا سارا مال اور اسباب لے لیا بعد ازاں ایک روز وہی برہمن مفسل و پریشان ہوگیا،اور روز وہ کسی راستے پر چل رہا تھا سامنے سے اسے دوست ملا پوچھا : کیا حال ہے برہمن نے کہا: اچھا اور بہت عمدہ ہے ،اس نے کہا کہ تیری ساری چیزیں تو تم سے چھین گئیں اب کیا خاک ہوگا کہا: میرا جنیئو (وہ بٹا ہوا ،دھاگہ جسے ہندو لوگ ہار کی طرح گلے میں ڈالتے ہیں ) تو میرے پاس ہے یہ حکایت بیان کر کے خواجہ صاحب نے میری طرف مخاطب ہو کر پوچھا کہ اس تقریر سے کیا معلوم ہوتا ہے؟میں نے عرض کی باطنی مدد۔ میں نے معلوم کیا کہ یہ میری تسکینِ خاطر کے لیے حکایت بیان فرمائی ہے یعنی مال و اسباب دنیوی ہونے یا نہ ہونے کی خوشی یا غم نہیں کرنا چاہیے، اگر سارا جہان بھی جاتا رہا تو کچھ ڈر نہیں ذات حق کی محبت دل میں ہونی چاہیے۔ الحمد للہ ا کہ بندے نے بھی وہی معلوم کیا جو خواجہ صاحب کا مدعاء تھا۔
خواب کا بیان
جمعہ کے روز چودھویں جمادی الاوّل سن مذکور کو قدمبوی کا شرف حاصل ہوا میں نے جمعرات کو خواب دیکھا عرض کی ! وہ خواب گویا امیر عالم ولوالجی علیہ الرحمۃوالغفر ان، کاتب کو کچھ مٹھائی تقسیم کر رہے ہیں، خواجہ صاحب صاحب نے فرمایا کہ کبھی اس سے کوئی تعلق رہا ہے؟عرض کی نہیں فرمایا: مجھے غیب سے کچھ ملے گا ،فوسرے ہفتے غیب سے کچھ مجھے ملا جس کا وہم و گمان تک نہ تھا ۔
اسی مہنے کی چوبیس ۲۴ تاریخ ماہ مذکور کو خواب دیکھنے کے گیارہویں دن بعد غیب سے مجھے کچھ ملا۔ الغرض اس روز امیر عالم ولوالجی علیہ الرحمہ والغفران کی بزرگی کے بارے میں بہت کچھ آپ نے فرمایا: اس کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک بزرگ صاحب نعمت تھے۔ جس نے خواجہ اجل شیرازی ؒسے نعمت حاصل کی تھی ۔ایک مرتبہ اس بزرگ نے منبر پر کھڑے ہو کر کہا: اے مسلمانو ! تمہیں واضح ہو کہ میں نے خواجہ اجل شیرازی ؒ سے نعمت حاصل کی ہے۔ آج رات میں نے وہ نعمت اپنے لڑکے کو عنایت کرنی چاہی تو حکم ہوا کہ یہ نعمت امیر عالم ولوالجی علیہ الرحمہ کو د۔و بعد ازاں امیر عالم کو منبر پر بلایا اور اپنا لُعابِ دَہن مبارک کا پانی اس کے منہ میں ڈالا ۔
فضیلت ماہِ رَجب
اتوار کے نویں جمادی الاوّل سن مذکور۷۱۰ ہجری کو دست بوسی کا شرف حاصل ہوا ماہ رجب کی فضیلت کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی فرمایا کہ اس مہینے میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اور یہ کہ اس مہینے میں چار راتیں بہت ہی بزرگ ہوتی ہیں یعنی پہلی رات، پہلی جمعرات ،پندرہویں رات اور ستائیسویں جو معراج کی رات ہے۔
قضاء نمازیں اور نفل
بعد ازاں نفلی نمازوں کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص قضاء شدہ فریضہ نمازوں کے عوض نفل ادا کرے تو وہ محسوب(شمار کیا ہوا) ہو جاتے ہیں ۔ بعد ازاں امام ابو حنیفہؒ کوفی ؒ کی حکایت بیان فرمائی کہ آپ قضا شدہ نماز کو پانچ مرتبہ ادا کرتے۔
ذکر استقرار تو بہ
اتوار کے روز تیرہویں ماہ رجب سن مذکور کو قدمبوسی کی دولت نصیب ہوئی استقرار تو بہ کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی زبان مبارک سے فرمایا کہ سالک جب پیر کی بیعت میں مستقیم ہو تو جو کچھ اس سے پہلے کر گزرا ہو اس کے لیے اس سے مواخذہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
اسی اثناء میں ایک اور حکایت بیان فرمائی کہ’ قصبہ ابوہر‘ میں سراج الدین نامی ایک شخص رہتا تھا جب میں وہاں جا کر اس کے مکان پر ٹھہر اوہ اور اس کے ہم قوم شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کے مرید تھے ۔اس روز وہاں کے بعض باشندے سراج الدین اور اس کے ہم قوم لوگوں سے لڑائی کرنے لگے اور لڑائی میں نا مناسب باتیں کہیں جن سے تہمت پائی جاتی تھی اس کی عورت نے جواب دیا کہ جو کچھ تم کہتے ہو میرے بارے میں سوچو کہ بیعت سے پہلے تھے یا بعد میں بھی جب یہ بات کہی ،تو فرمایا اس عورت :نے کیا اچھی بات کہی۔
ذکر کشائش رزق
منگل کے روز انتیسویں ماہ مذکورسن مذکور کو قدمبوی کا شرف حاصل ہوا ایک نے آکر اپنے احوال کے انتظام کے لیے مدد طلب کی۔ فرمایا: جنگی معاش دور کرنے کیلئے ہر رات سورۂ جمعہ پڑھا کرو بعد ازاں فرمایا کہ شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز فرمایا کرتے تھے ہر جمعرات کو پڑھنی چاہیے لیکن میں کہتا ہوں کہ ہر رات پڑھنی چاہیے میں نے اپنے لیے کبھی
نہیں پڑھی کسی اور کے لیے پڑھتا ہوں ۔اسی اثناء میں ایک حکایت بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ میرا گزر چند ایسے اشخاص کی مجلس کے پاس سے ہوا جو صوفیوں کے لباس میں تھے ۔ان میں سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا تیرا روزگار اچھا ہو جائے گا اور تیرے لیے اسباب مہیا ہوں گے اور تیری روزی فراخ ہو جائیگی میں نے چاہا کہ کہوں کہ خواجہ صاحب ! جس لباس میں آپ ہیں اس لباس والے ایسی تعبیر نہیں کیا کرتے۔ پھر خیال آیا کہ میری کیا ہستی ہے جو جواب کہوں بغیر کچھ کہے میں پاس سے گزر گیا، جب خواجہ صاحب نے یہ حکایت ختم کی تو جو شخص مدد طلب کرنے کے لیے آیا تھا اس نے عرض کی اے مخدوم! لوگوں کے لیے فراخ روزی اور اسباب کا مہیا ہونا ضروری ہے ۔خواجہ صاحب نے مسکرا کر فرمایا کہ یہ حکایت میں نے اپنے حال کی بابت بیان کی ہے نہ کہ تیرے حال کی بابت ۔
***************************************************
[23:02, 5/18/2026] Saliha Zeshan Nizami: Audio
وائس درس از معلم مفتی خواجہ طہ عامر نظامی
[23:13, 5/18/2026] +92 330 2352998: با ادب با ملاحظہ
معلم : خواجہ طہ عامر نظامی
دن :- پیر
کلاس کا وقت :- 11:00pm to 11:40pm
عنوان :- درس فوائد الفوائد
تاریخ : 18 مئ 2026
معاونہ : کمانڈنٹ صالحہ امینی
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
خواجہ محمود امینی نظامی ۔
سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس فوائد الفواد شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں...
ذی الحجہ کا چاند نکلا، رحمتوں کا در کھلا
اے دلِ غافل جاگ جا، مولا نے بلاوا بھیجا
تکبیر کے نعرے لگا، ذکرِ الہی میں دل لگا
یہ دس دن ہیں قیمتی، ان کو ضائع مت کرنا
اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد
