جب کسی کامل و مکمل مرشد سے نصیب جاگ اُٹھنے کے بعد واسطہ پڑ جائے..
تو سمجھو دراصل خود اللہ سے ملاقات کا در کھل گیا...💫
ایسے مقام پر اگر بندہ پھر بھی اللہ کے سوا کچھ مانگے چاہے دنیا ہو، جنت ہو، کرامت ہو یا کوئی طلبِ نفس تو یہ گویا عشق کے دربار میں شرک کی گونج ہے۔❤️🔥
یہ ویسا ہی ہے جیسے کوئی بندہ بڑی ریاضتوں، سفارشوں اور محنت کے بعد بادشاہِ وقت تک رسائی حاصل کرے، اور جب حضور میں پیش ہو تو عرض کرے:
“حضور! مجھے ایک کیلا چھل کے دے دو”۔
کیا یہ عقل مندی ہے یا ناشکری؟
جو مرشد کامل تک پہنچ گیا اسے چاہیے کہ طلب کی زبان بند کر دے اور عشق کی آنکھ کھول دے۔
کیونکہ کاملین جلدی نہیں ملتے وہ اللہ کے راز ہیں، چُنے ہوئے چراغ ہیں۔
اور جب فضلِ الٰہی سے وہ نصیب ہو جائیں، تو پھر ان کے سامنے سوائے اللہ کی طلب کے کچھ کہنا، کچھ چاہنا، دل کی گہرائیوں میں توحید کے نور پر پردہ ڈال دینا ہے۔
مرشد سے تعلق اگر صرف اللہ کی خاطر ہو، تو وہ بندے کو اللہ تک پہنچا دیتا ہے۔🙇🏻♂️❤️🔥
لیکن اگر تعلق میں کوئی اور رنگ یا غرض شامل ہو جائے،
تو وہ تعلق وصال نہیں وسوسہ بن جاتا ہے۔
مرشد کے ساتھ تعلق اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی طلب کے لیے رکھنا سراسر شرک ہے شرک ہے شرک ہے۔۔۔۔۔🔥
اور وہ مرشد جو دعوی کرے کہ میں کچھ دے سکتا ہوں اور خدا کے علاوہ خود کی خدمت کروانا شروع کر دے اور خود بڑا بن جائے حالانکہ وہ خود فنا فی اللہ اور بقا باللہ تک نہیں پہنچا تو اس مرشد کے ہاتھ پیر چومنا بھی شرک ہے۔۔۔۔۔🔥🙏🏼
مرشد دراصل آئینہ ہے جو خود کچھ نہیں مگر دکھاتا سب کچھ ہے۔یاد رکھنا وہ مرشد جو فنا فی اللہ ہو بقا باللہ ہو اس مرشد اور جو نفسانی مرشد ہو اس میں زمین اسمان کا فرق ہے۔۔۔۔
ایک مقام ایسا اتا ہے جہاں مرشد مرشد نہیں رہتا۔۔۔۔۔وہ وہ بن جاتا ہے۔۔۔۔۔🔥😊♥️
[23:46, 6/2/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس
فوائد الفواد
شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں
[23:46, 6/2/2026] taha nizami:
قصیدۂ فیض
امینِ قرآں ہیں، امینِ دل و جاں ہیں آپ
چراغِ بزمِ ہدیٰ، شمعِ عرفاں ہیں آپ
نظامِ عشق و وفا کے امیں، مرشدِ راہ
متاعِ صبر و رضا، روحِ ایماں ہیں آپ
جہاں میں علم کی خوشبو بکھیرتے ہیں سدا
گلِ ریاضِ ادب، رشکِ بستاں ہیں آپ
کرم کی چھاؤں میں پلتی ہے خلق کی امید
غریب دل کے لیے ابرِ احساں ہیں آپ
نگاہِ لطف سے ویران دل سنور جائیں
خزینۂ مہر و وفا، بحرِ امکاں ہیں آپ
جو آپ سے ملا، اس نے روشنی پائی
چراغِ راہِ طلب، نورِ وجداں ہیں آپ
خدا کرے کہ رہے فیض آپ کا جاری
مری دعاؤں کا حاصل، طہؔ کا ارماں ہیں آپ
[23:47, 6/2/2026] taha nizami:
امینِ قرآں، مالکِ فیض و نظر ہیں آپ
راہِ حق کے مسافر کی سحر ہیں آپ
دلوں میں عشقِ الٰہی جگا دیا جس نے
اسی چراغِ ہدایت کا اثر ہیں آپ
اے صاحبِ کرم! ہمیں اپنی پناہ دے
ایمان کو جِلا دے، دلوں کو صفا دے
رہ جائے تیرے ذکر کی خوشبو ہمارے ساتھ
ہر اک قدم پہ اپنی عنایت کی ضیا دے
[23:48, 6/2/2026] taha nizami: https://fawaidulfawad.blogspot.com/
[23:56, 6/2/2026] Ra Raiyan Nizami: Audio
