معشوق کی نظر کیمیا اثر
بعد ازاں فرمایا کہ ایک جگہ قاضی حمید الدین ناگوری ؒلکھتے ہیں کہ ایک شخص کو تہمت دے کر گر فتار کر لیا گیا اور ہزار بید لگایا گیا لیکن ذرہ بھر آہ و فریاد نہ کی اور نہ اس میں درد کی علامت پائی گئی۔ سزادینے کے بعد اس سے پوچھا گیا کہ سزا کا اَثر تم پر کیوں نہ ہوا؟ کہا جب مجھے سزا دے رہے تھے، تو میرا معشوق میری نظروں میں تھا اور وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر کے سبب مجھے کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ بعد ازاں خواجہ صاحب نے زبان مبارک سے فرمایا کہ جب مجازی معشوق کی نظر کا یہ اَثر ہے تو حقیقی کا تو اس سے بدرجہا بہتر ہونا چاہیے۔
ذکر توکل
پھر تو کل کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا توکل کے تین مرتبے ہیں۔
پہلا مرتبہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی آدمی کو اپنے دعویٰ کے لیے وکیل کرے اور وہ وکیل اس شخص کا دوست بھی ہو اور عالم بھی تو وہ مؤکل بالکل بے کھٹکے ہو گا کہ میں ایسا وکیل رکھتا ہوں جو دعوے کے کاموں میں بھی دانا ہے اور میرا دوست بھی ہے ۔اس صورت میں تو کل بھی ہوگا اور سوال بھی چنانچہ وہ بھی کبھی کبھی وکیل سے کہے گا کہ اس دعوے کا جواب اس طرح دینا اور یہ کام اس طرح سرانجام کرنا یہ توکل کا پہلا درجہ ہے کہ تو کل بھی ہو اور سوال بھی ۔
دوسرا مرتبہ تو کل کا یہ ہے کہ ایک شیر خوار بچہ ہو جس کی ماں اسے دودھ پلاتی ہوا سے تو کل ہی ہو گا سوال نہ ہو گا۔ بچہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے فلاں وقت دودھ دینا، صرف روتا ہے۔ لیکن تقاضا نہیں کرتا اور نہ ہی کہتا ہے کہ مجھے دودھ دے دو اس کے دل میں شفقت مادری کا پورا بھروسہ ہوتا ہے،۔
تو کل کا تیسرا درجہ ہے کہ جیسے مردہ نہلانے والے کے ہاتھ کہ وہ مردہ نہ حرکت کرتا ہے نہ سوال جس طرح نہلانے والا چاہے اسے حرکت دے اور دھوئے، یہ درجہ بہت بلند اور اعلیٰ ہے ۔ مجلس مذکور میں کھانا لایا گیا حاضرین میں سے ایک نے بطور خوش طبعی کہا کہ میں فلاں مقام میں تھا ۔ اگر چہ میرا پیٹ بھرا ہوا تھا لیکن جب تتخاج ( ایک قسم کی آش یعنی شوربہ، گاڑھا سوپ یا دلیہ نما غذا ) لائے تو مجھ سے رَہا نہ گیا کھا ہی لیا، خیر خوش طبعی کی باتیں ہوئیں خواجہ صاحب نے اس موقعہ کے مناسب فر مایا کہ میں ایک مرتبہ شیخ جمال الدین خطیب ہانسوی کے پاس گیا ،اشراق کا وقت اور سردی کا موسم تھا شیخ نے میری طرف دیکھ کر یہ شعر پڑھا:
؎ با روغن ِ گاؤ اندریس خنک نیکو باشد ہریسہ و نان تک
*********************************************
یہ شعر قدیم فارسی طرزِ بیان رکھتا ہے اور ظاہری طور پر سادہ خوراک کا ذکر کرتا ہے، مگر صوفیانہ انداز میں اس میں قناعت،
سادگی اور باطنی سکون کی طرف اشارہ بھی پایا جاتا ہے۔
؎ با روغنِ گاؤ اندریس خنک نیکو باشد ہریسہ و نانِ تک
تمہیدی مفہوم:یہ شعر بظاہر سادہ غذا ہریسہ اور روٹی کا ذکر کرتا ہے، مگر صوفیانہ زاویے سے یہ قناعت، سکونِ قلب، فقر، رضا اور ذکرِ الٰہی کی لذت کی طرف اشارہ ہے۔صوفیہ کے نزدیک اصل نعمت کھانے کی کثرت نہیں بلکہ دل کی آسودگی ہے۔
1۔ قناعت: کم میں راحت پانا
شاعر کہتا ہے کہ اگر فضا “خنک” ہو، یعنی دل مطمئن اور باطن پرسکون ہو، تو سادہ غذا بھی بہترین محسوس ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:**اَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ**(سورۃ الرعد 13:28)
“خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”
صوفیہ اس آیت سے یہ معنی لیتے ہیں کہ اصل “خنکی” اور راحت ذکرِ الٰہی سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ ظاہری آسائش سے۔
2۔ سادہ غذا اور نبوی طرزِ حیات
یہ شعر ہمیں حضور ﷺ کی سادہ زندگی یاد دلاتا ہے۔حدیث میں آتا ہے: “آلِ محمدؐ کے گھر میں کئی کئی دن چولہا نہ جلتا تھا۔”
اور ایک روایت میں: “دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر ہو۔”
یہ تعلیم انسان کو دنیا کی حرص سے آزاد کرتی ہے۔
3۔ روغن کی علامتی تعبیر
شعر میں “روغن” صرف گھی نہیں بلکہ روحانی ذوق کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔صوفیانہ زبان میں:
* روغن = محبتِ الٰہی * ہریسہ و نان = دنیا کی سادہ زندگی * خنکی = سکونِ قلب
یعنی: جب دل محبتِ الٰہی سے لبریز ہو تو سادہ زندگی بھی لذیذ ہوجاتی ہے۔
4۔ فقرِ صوفیہ
خواجہ جنید بغدادیؒ سے منسوب قول ہے: “القناعةُ راحةُ القلوب”( “قناعت دلوں کی راحت ہے۔”)
اسی طرح خواجہ بایزید بسطامیؒکے نزدیک فقر کا مطلب محرومی نہیں بلکہ: “اللہ کے سوا ہر شے سے بے نیازی” ہے۔
اس شعر میں بھی یہی کیفیت ہے کہ معمولی غذا بھی کافی ہے، اگر دل غنی ہو۔
5۔ مولانا رومؒ کی روشنی میں
رومیؒ فر ماتے ہیں: “تن اگر نان کم خورد، جان زندهتر شود”
“جب جسم کم کھاتا ہے تو روح زیادہ زندہ ہوتی ہے۔”
یہاں مقصد رہبانیت نہیں بلکہ خواہشات کی غلامی سے آزادی ہے۔
6۔ امام غزالی ؒ کا زاویہ
احیاء العلوم میں امام غزالی ؒنے لکھا کہ:
> زیادہ لذتوں کی عادت دل کو سخت کردیتی ہے، جبکہ سادگی دل میں نور پیدا کرتی ہے۔
یہ شعر اسی روحانی سادگی کی تعریف کرتا ہے۔
جامع صوفیانہ مفہوم:یہ شعر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ: حقیقی خوشی آسائش کی فراوانی میں نہیں، بلکہ سکونِ قلب، ذکرِ الٰہی، قناعت اور رضا میں ہے۔جب دل “خنک” ہو جائے تو: سادہ روٹی بھی نعمت بن جاتی ہے، اور جب دل بےقرار
ہو تو شاہانہ دسترخوان بھی بےلذت رہتا ہے۔
*********************************************
میں نے کہا: غائب کا ذکر کرنا غیبت ہے شیخ جمال الدین نے کہا میں انہیں لے آیا ہوں تبھی تو کہتا ہوں پس جو کچھ کہا تھا اسی ؟ وقت لا موجود کیا اور طعام حاضر تھا اور دستر خوان بچھا ہوا تھا۔ اس کی نسبت یہ حکایت بیان فرمائی کہ ایک دفعہ ایک شخص محمد نام، شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں بیٹھا تھا جب کھانا لایا گیا تو دسترخوان موجود نہ تھا شیخ صاحب نے فرمایا کہ زمین پر یہ روٹیاں رکھ دو،حاضرین کے دل میں خیال آیا اگر دستر خوان ہوتا تو بہتر ہوتا۔ شیخ صاحب نے: دوانگلیوں سے زمین پر ایک گول لکیر کھینچی اور فرمایا کہ محمد اسی کو دستر خوان سمجھو بعد ازاں فرمایا کہ یہ حال کے شروع کی بات ہے۔
جمعہ کے روز تیئسویں ماہ ربیع الآخرسن مذکور کو قدمبوسی کی دولت نصیب ہوئی اس ہفتہ میں کا تب بہ سبب دیری تنخواہ دل تنگ تھااب حاضر خدمت ہوا۔ تو فرمایا کہ اس سے پہلے ایک مرد نہایت بزرگ سے میری چند مرتبہ ملاقات ہوئی ۔
********************************************
[23:07, 5/12/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس
فوائد الفواد
شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں
------------------------------------------------------------------
[23:16, 5/12/2026] Saliha Zeshan Nizami:
سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس
فوائد الفواد
شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں
-------------------------------------------------
با ادب با ملاحظہ
معلم : خواجہ طہ عامر نظامی
دن :- پیر
کلاس کا وقت :- 11:00pm to 11:40pm
عنوان :- درس فوائد الفوائد
تاریخ : 12 مئ 2026
معاونہ : کمانڈنٹ صالحہ امینی
[23:26, 5/12/2026] taha nizami:
اک حقیقت۔۔۔۔❤️🔥
طلب سچی ہو من صاف ہو نیت ٹھیک ہو اور طلب حق ہو تو سامنے بیٹھا ہوا تجھے خوش ہو کے نوازے گا تو۔۔۔🙇🏻♂️❤️🔥
جو طلب حق ہوتی ہے وہ کروڑوں میں کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے ورنہ کوئی نہ کوئی اللہ والے کو ڈھونڈ کے اپنا کام نکلوانے کے چکر میں ہوتا ہے۔۔۔
تو جو کام نکلوانے کے چکر میں ہوتا ہے اس پاگل کو پتہ نہیں ہوتا جو اللہ والا ہے وہ دنیا چھوڑ کے اللہ والا بنا ہے تم لوگ پھر اس سے دنیا مانگنے چلے جاتے ہو کیا کمال کرتے ہو۔۔۔۔✨🍂
اللہ والوں سے اللہ ملتا ہے تم کبھی بھی الیکٹریشن کی دکان سے جا کے کریانے کا سامان نہیں خرید سکتے کیونکہ الیکٹریشن الیکٹرک کا سامان دے گا اور کریانے والا ہی تم کو کریانہ دے سکتا ہے سمجھو اس بات کو....🥀❤️🔥
*کوئی نظارے کے چکر میں ہوتا ہے یعنی کوئی ایسے لوگ بھی مجھے ملے ہیں جو اللہ کو نہیں چاہتے اللہ کے رازوں کو چاہتے ہیں کیا کمال کرتے ہو۔۔۔۔..✨🙇🏻♂️
مرشدی مالک امین الحق امین سلسلہ
ہر دعا میں ان کی آمین ربنا کا ساتھ ہو 💐💐💐
