google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 حصّہ دوئم - DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.17

حصّہ دوئم - DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.17

0





ذکر اِحوال شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ  
سوموار کے روز ساتویں ماہ ربیع الاول سن مذکور کو قدم بوسی کی دولت نصیب ہوئی شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی زبان مبارک سے فرمایا کہ آپ کا افطار ا کثر شربت کے ایک پیالے سے ہوتا جس میں آپ قدرے سَتُّو ڈالتے جس میں سے آدھا یا تیسرا حصہ حاضرین کو تقسیم فرماتے اور تھوڑا سا ایک برتن میں ڈالتے اور باقی کا خود استعمال کرتے اس بقیہ میں سے بھی جس کو چاہتے عنایت فرماتے۔ بعد ازاں نماز سے پہلے دو روٹیاں چپڑ کر لاتے جو ایک سیر سے کم وزنی ہوتیں ،ان میں سے ایک کے ٹکڑے کر کے حاضرین پر استعمال کرتے اس خاص روٹی میں سے بھی جس شخص کو خواہش ہوتی دے دیتے ،شام کی نماز کے بعد یا دِ حق میں مشغول ہوتے۔ اس مشغولی کے بعد دستر خوان لایا جاتا جس میں ہر قسم کا کھانا ہوتا جو تقسیم کیا جاتا اس کے بعد پھر کھانا نہ کھاتے جب تک کہ دوسرے دن افطار کا وقت نہ ہوتا۔ بعد ازاں فرمایا کہ آپ کو خلہ کا مرض(غیر معمولی روحانی کیفیت)تھا اور اسی مرض سے وفات پائی۔ 
خواجہ صاحب نے فرمایا: ایک مرتبہ تندرستی کی حالت میں، میں حاضرِ خدمت تھا کہ ایک گودڑی تیار کی جس پر دن کو بیٹھتے اور رات کو وہی اُوڑھتے ،جو پاؤں تک نہ پہنچ سکتی جہاں پر پاؤں ننگے رہتے وہاں ٹکڑالا کر ڈالتے ،اگر اس ٹکڑے کو اوپر کی طرف سرکاتے تو بستر خالی رہتا ایک عصاء تھا، جو شیخ قطب الدین  ؒ سے ملا تھا اسے سر کی طرف لا کر رکھتے ۔ شیخ صاحب اس پر تکیہ لگاتے اور آرام فرماتے ،جتنی مرتبہ اس عصاء کو چھوتے ہاتھ کو چومتے ۔
بعد ازاں فرمایا کہ ایک روز اسی بیماری میں مجھے اور چند اور یاروں کو فرمایا کہ فلاں خطیرہ (مقبرے) میں جا کر میری صحت کے لیے دعا کرو اور رات بھر جاگتے رہو ۔ ہم نے ویسا ہی کیا چنانچہ اور چند یار اس کی خدمت میں گئے اور کھانا ہمراہ لیتے گئے رات وہیں رہے ہم نے دُعا کی جب دن ہوا تو شیخ صاحب کی خدمت میں آکھڑے ہوئے اور عرض کی کہ رات فرمان کے مطابق ہم بیدار رہے اور دُعاء کی۔ شیخ صاحب نے تھوڑا تامل کر کے فرمایا کہ اس تمہاری دعا کا میری صحت پر کچھ اَثر نہیں پڑا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ میں جواب دینے میں تو متامل تھا لیکن ایک یار علی بہاری نے جو پیچھے کھڑا تھا کہا کہ ہم ناقص ہیں اور آپ کامل ناقصوں کی دُعا کاملوں کےحق میں کب مفید ہو سکتی ہے۔ آپ نے یہ بات نہ سنی، میں نے یہ سن کر خدمت میں عرض کی بعد ازاں میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ خواہش کی ہے کہ جو کچھ تو اللہ تعالیٰ سے مانگے ، پائے ۔
بعد ازاں مجھے اپنا عصاء عنایت فرمایا اسی اثناء میں (مؤلف کتاب) نے کہا کہ کیا آپ شیخ صاحب کی رِحلت کے وقت موجود تھے ،آبدیدہ ہو کر فرمایا نہیں۔ مجھے شوال میں دہلی بھیجا اور آپ نے پانچویں محرم کو وفات پائی رِحلت کے وقت مجھے یاد کیا اور فرمایا کہ فلاں شخص دہلی میں ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میں بھی شیخ قطب الدین قدس اللہ سرہ العزیز کی رِحلت کے وقت حاضر نہ تھا، اس وقت میںہانسی میں تھا۔ جب یہ حکایت بیان کر چکے تو اس طرح رونے لگے کہ تمام حاضرین پر اس کا اَثر ہوا۔
بعد ازاں یہ حکایت بیان فرمائی کہ جب شیخ صاحب پر بیماری غالب آئی تو ماہ رمضان میں افطار کیا کرتے تھے ،ایک روز خرپزہ کے اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک ٹکڑا مجھے عنایت فرمایا مجھے خیال آیا کہ اس کے بعد کے دو مہینے پےدرپے، اس روزے کے کنارے میں روزے رکھ لوں گا۔ یہ دولت پھر کب نصیب ہوگی میں کھانے ہی کو تھا کہ فرمایا ایسا نہ کرنا مجھے تو شریعت کی طرف سے اجازت ہے، مجھے نہیں کھانا چاہیے میں نے عمر پوچھی ۔

ذ کر مدت شیخ فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز
تو فرمایا کہ ترانوے سال اسی روز تقریر فرمائی جس کے سننے سے اس قدر ذوق حاصل ہوا ،جو بیان نہیں ہو سکتا جب رات ہوئی عشاء کی نماز کے بعد خاص مصلّٰے مجھے عنایت فرمایا۔

دعاء قبل نزولِ بلا
ہفتے کے روز دسویں ماہ ربیع الآخرین مذکور کو قدم بوی کا شرف حاصل ہوا۔ دعاء کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ بلا  زل ہونے سے پہلے ہی دعاء کرنا چاہیے اس صورت میں جب بلا نازل ہوتی ہے تو راہ میں دُعا اور بلا آپس میں ملتی ہیں ،جو زیادہ قوی ہوتی ہے وہ دوسری کو واپس لوٹاتی ہے۔ اس موقعہ کے مناسب یہ حکایت بیان فرمائی کہ جب تا تاری کافروں کی بلا نازل ہوئی اور کافر نیشا پور پہنچے، تو وہاں کے بادشاہ نے کسی کو فرید الدین عطار ؒکی خدمت میں بھیجا کہ دعاء کرو جواب دیا کہ اب دعاء کا وقت گزر گیا،اب تو رضاء کا وقت ہے یعنی بلا خدا کی طرف سے نازل ہو چکی ہے ،اب راضی رہنا چاہیے۔
بعد ازاں فرمایا کہ بلا کے نازل ہونے کے بعد بھی دُعا کرنی چاہیے اگر چہ بلا تو دفع نہیں ہو جاتی ، لیکن اس کی سختی کم ہو جاتی ہے۔
 صبر و رضا
یہاں سے پھر صبر ورضا ء کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی فرمایا صبر اس بات کا نام ہے کہ جب کوئی خلاف طبع بات بندے کوہو تو اس کی شکایت نہ کرے اس بات کا نام رضا ہے، کہ اس مصیبت سے کسی طرح کی اسے کراہت نہ ہو۔ ایسا معلوم ہوا کہ گویا اس  پر مصیبت نازل ہی نہیں ہوئی۔ بعد ازاں فرمایا کہ متکلم اس بات کے منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی پر مصیبت پڑے اور وہ نہ گزرے فرمایا: اس کے جواب تو بہت ہیں ایک یہ ہے فرض کرو کہ ایک شخص راستہ چل رہا ہے اس کے پاؤں میں کانٹا چبھ گیاہے ،جس کے سبب خون بہہ نکلا لیکن وہ اتنی جلدی جارہا ہے کہ اسے اس کی کچھ خبر نہیں ایک ساعت بعد اسے معلوم ہوتا ہے یہ اکثر ہوتا ہے کہ جب کوئی جنگ میں مشغول ہوتا ہے اور اسے کوئی زخم لگے تو اسے خبر بھی نہیں ہوتی جب اپنے مقام پر واپس آتا ہے تو اسے معلوم معمولی مشغولی سے زخموں کی خبر نہیں رہتی تو مشغول حق سے کس طرح مصیبتوں کی خبر ہو سکتی ہے۔




**************************************************
[23:07, 5/11/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم 
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 
فوائد الفواد شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں
[23:12, 5/11/2026] taha nizami: https://fawaidulfawad.blogspot.com/2026/04/dars-e-fawaid-ul-fawad-no11.html?m=1

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !