درس فوائد الفواد
صدقے کی شرائط
پھر تھوڑی دیر کے لیے صدقے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی فرمایا کہ جب صدقے میں پانچ شرطیں ہوں تو بے شک صدقہ قبول ہوتا ہے ان میں سے دو عطاء سے پہلے دو عطا کے وقت اور ایک بعد میں ہوتی ہے۔ عطاء سے پہلے کی دو شرطیں ہیں کہ جو کچھ دے وہ حلال کی کمائی ہو، دوسرے کسی نیک مرد کو دے جو اسے برے کام میں خرچ نہ کرے ۔
عطاء کے وقت کی دو شرطیں یہ ہیں کہ اوّل تواضع اور ہنسی خوشی سے دے ،دوسرے پوشیدہ دے ۔بعد کی شرط یہ ہے کہ جو کچھ دے، اس کا نام نہ لے بلکہ بھول جائے۔
فرق در میان صدقہ وصُدقہ
بعد ازاں فرمایا کہ ایک صدقہ اور دوسرا صُدقہ ہے صدقہ کے معنی تو معلوم ہو گئے، اب رہا صُد قہ سو وہ مہر کا دِین ہے اور دونوں کے معنی صدق محبت کے مقتضی ہیں یعنی جس سے نکاح کرنا چاہتا ہے اس سے سچی محبت پیدا کرنی چاہیے۔ پس وہ درمیان میں دِین مہر لاتا ہے اور جو چیز راہ حق میں دی جاتی ہے اس سے بھی حق تعالیٰ سے محبت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صدق محبت کی وجہ سے صدقہ ہوا ہے۔
بعد ازاں امیر المؤمنین ابوبکرص کی حکایت بیان فرمائی کہ آپ چالیس ہزار دینار حضرت رسالت پناہ ﷺ کی خدمت میں لائے۔
؎ شکرانہ چہل ہزار دینار دہند با میخ و گلیم عشق را بار دہند
(وہ شکرانے کے طور پر چالیس ہزار دینار (سونے کے سکے) دیتے ہیں،مگر عشق کو (جو ایک مسافر ہے) صرف ایک کھونٹی (میخ) اور ایک گلیم (سادہ چادر/قالین) کا بوجھ دیتے ہیں۔
صوفیاء کے نزدیک:حقیقی دولت دینار و درہم نہیں بلکہ عشقِ الٰہی ہےاور اس عشق کے راستے میں:آسائش نہیں بلکہ سادگی ہےدولت نہیں بلکہ فقر ہےآرام نہیں بلکہ قربانی ہےیعنی جو لوگ دنیاوی انعام چاہتے ہیں، انہیں مال ملتا ہےلیکن جو عشق کا راستہ اختیار کرتے ہیں، انہیں سادگی، صبر اور قربِ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔)
یہ اس طرح ہوا کہ اس روز ابو بکر صدیق ؓ کے پاس چالیس ہزار دینار تھے وہ سب رسول خداﷺ کی خدمت میں پیش کیے آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ بال بچے کے لیے بھی کچھ رکھا ہے؟ عرض کی خدا اور اس کا رسول ﷺکافی ہیں۔
بعد ازاں عمر خطابؓ آئے اور ابو بکرؓسے نصف مال لائے ۔آنحضرت ﷺنے پوچھا کہ گھر والوں کے لیے بھی کچھ رکھا ہے؟ عرض کی نصف لایا ہوں اور نصف رکھ آیا ہوں ! بعد ازاں رسول خداﷺنے ان کی لائی ہوئی چیز کے مطابق حکم کیا۔
بعد ازاں ابو بکر صدیق ؓ کی بابت حکایت بیان فرمائی کہ جس روز چالیس ہزار دینار لائے اور گودڑی پہن کر اس پرمیخ ٹھونک (پورا یقین یا تسلی کر کے آنا)کرآئے۔ رسول خداﷺکی خدمت میں آئے ،اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت ﷺکی خدمت میں گودڑی پہن کر اور میخ ٹھونک کر آئے۔ آنحضرت ﷺنے پوچھا: یہ کیسا لباس ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آج تمام فرشتوں کو حکم ہوا ہے کہ ابو بکر صدیقؓ کی موافقت سے گودڑی پہنو! اور اس پر میخ ٹھونکو ۔بعد ازاں خواجہ صاحب نے یہ شعر پڑھا:
؎ شکرانہ چہل ہزار دینار دہند با شیخ و گلیم عشق را بار دہند
صدق کی حقیقت
یہاں سے صدق کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ ایک مرد کے پاس پچاس دینار تھے اس نے دل میں سوچا کہ میں کعبہ کی زیارت کر آؤں اور یہ روپیہ کعبہ کے مجاوروں اور وہاں کے رہنے والوں کو دوں ،یہ نیت کر کے روانہ ہوا اثنائے راہ میں ایک عیار اسے ملا اور اس نے تلوار سونت لی ۔تو مرد نے ہمیانی(پیسوں کی تھیلی) نکال کر اس کے آگے پھینک دی اور کہا مجھے کیوں مارتا ہے یہ لے پچپیس دینار ہمیانی میں ہیں ۔ عیار نےہمیانی اُٹھالی اور پچیس دینار نکال کر اس شخص کے سامنے رکھ دیئے ،لے تیری سچائی نے میرے قہر کوٹھنڈا کر دیا۔
تصدق کی حقیقت
بعد ازاں تصدق کے بارے میں حکایت بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین عمرص نے ایک شخص کو گھوڑا بخش دیا تھا وہ گھوڑا اس کے پاس لاغر ہو گیا امیر المومنین ص نے قیمتاً اس سے خریدنا چاہا ۔جب یہ بات آنحضرتﷺ کی خدمت میں عرض کی تو جناب سرور کائنات ﷺنے منع کیا کہ دی ہوئی چیز کو پھر نہیں خریدنا چاہیے، خواہ ایک دانگ ( درہم کا چوتھائی حصہ- کسی شے کا چھٹا حصہ ) کوملے۔
کھانا کھلانے اور کھانے کی فضیلت
بعد ازاں کھانا کھلانے کی فضیلت کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ہیں درہم صدقہ کرنے کی نسبت ایک درہم کا کھانا یاروں کو کھلانا بہتر ہے۔ پھر اسی بارے میں ایک اور حکایت بیان فرمائی کہ ایک درویش صاحب حال بخارا میں امیر کے پاس آیا اور کہا: مجھے بادشاہ شہر سے کچھ کام ہے ذرا میری سفارش کر دینا پوچھا۔ تیرا کیا حق ہے؟ جو میں سفارش کروں کیا تیرا مجھ پر حق ہے؟ کہا ایک مرتبہ تو نے کھانا پکایا تھا اور میں نے تیرے دستر خوان پر بیٹھ کر کھایا تھا یہ ہے تجھ پر میرا حق ۔جب یہ سنا تو فوراً اُٹھ کر بادشاہ کے ہاں جا کر میرا کام بنوایا۔
فقراء اور معاملات لین دین
بعد ازاں فقراء کے معاملات میں اور لین دین کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ شیخ بدر الدین الحق علیہ الرحمہ والغفران نے ایک شخص کو شطرنجی ( دری - ایک طرح کا سوتی کپڑا) دے کر فرمایا کہ بازار جا کر فروخت کر آؤ اور ساتھ ہی فرمایا کہ درویشانہ طور پر بیچنا۔ پوچھا اس کا کیا مطلب؟ فرمایا: جو ملے سو لے آنا۔
ذکر مناقب ابراہیم ادھم ؒ
سوموار کے روز انتیسویں ماہ ذوالحج ۷ ہجری کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا ابراہیم ادھم ؒ کے مناقب اور مراتب کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ آپ نو سال ایک غار میں رہے، اس غار میں ایک چشمہ تھا جس پر آپؒ رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے عبادت کیا کرتے تھے ۔ایک رات نہایت سردی تھی چنانچہ ہلاکت کا اندیشہ تھا اس تاریکی میں آپ کے ہاتھ ایک پوستین(کھال کا بنا ہوا گرم لباس) لگی اسے پہن کر گرم ہوئے۔ جب دن چڑھا تو پوستین دور پھینک دی جب دور پھینکی اور غور سے دیکھا تو پوستین در اصل اژدھا تھا ،جس نے آنکھیں کھولی ہوئی تھیں اور پھن پھیلائے حرکت کر رہا تھا۔ آپ ؒحیران رہ گئے اتنے میں آواز آئی
نجيناك من التلف بالتلف
( ہم تجھے ہلاک کرنے والے سے ہلاک کرنے والے کے ذریعے بچا لیا )
سردی اور سانپ دونوں ہلاک کرنے والے تھے سوسردی سے سانپ کے ذریعے تجھے بچالیا۔
ذکر کرامت اولیاء
بعد ازاں فرمایا کہ ایک درویش کنوئیں میں گر پڑارسی نہ تھی جو باہر نکلتا اب مرنے پر ٹھان لی کہ اتنے میں ایک رسی اُوپر سے لٹکتی ہوئی اسے دکھائی دی سمجھا کہ یہ نجات کا سبب ہے اسے پکڑ کر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ شیر ہے جو نیچے دم لٹکائے بیٹھا تھا اسنے یہی آوازسنی۔
نجيناك من التلف بالتلف
( ہم تجھے ہلاک کرنے والے سے ہلاک کرنے والے کے ذریعے بچا لیا )
یہاں سے اولیاء کی کرامت کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ ایک محجوب(حیا دار / باحیا) ولی تھا ایک مدعی اس کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آزمائش کرنی چاہی دل میں خیال کیا کہ جو آنکھ ظاہر میں نابینا ہو واجب ہے کہ عالم ِباطن میں بھی اس کی بینائی میں کچھ فرق ہو ۔پس اس نے محجوب(حیا دار / باحیا) کی طرف مخاطب ہو کر پوچھا کہ ولایت کی کیا علامت ہے؟ اسی اثناء میں ایک مکھی آکر اس کے ناک پر بیٹھی اس نے تین مرتبہ اُڑائی پھر آ بیٹھی اسی اثناء میں پھر اس نے پوچھا کہ ولایت کی کیا علامت ہے؟ ایک علامت تو یہ ہے کہ اولیا، پر مکھی نہیں بیٹھتی۔
پھر لقمہ کی نگہداشت کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ ایک جوان شیخ ابراہیم ادھم ؒکا مرید ہوا جو کثیر الطاعۃ تھا چنانچہ ابراہیم ادھم ؒ کو اس کو طاعت اور عبادت سے تعجب ہوا ۔اپنے نفس کو جھڑ کا کہ یہ جوان جو مرید بنا ہے اس قدر طاعت کرتا ہے اور تو اس قدر نہیں کر سکتا بعد ازاں نورِ ضمیر سے معلوم کیا کہ یہ سب کچھ شیطانی ہے کیونکہ وہ جوان مشتبہ لقمہ کھایا کرتا تھا ،اس لیے شیطان ہی اس سے وہ طاعت کرایا کرتا تھا۔ جب ابراہیم ادھم ؒ کو یہ حال معلوم ہوا تو نوجوان کو کہا کہ جہاں سے میں کھانا کھاتا ہوں وہیں سے کھایا کرو۔ جوان نے لکڑیاں بیچ کر کھانا شروع کیا تو وہ بے اصل طاعت کا غلبہ جاتا رہا اور پھر تھوڑی عبادت کرنے لگا ،یہاں تک کہ نماز فریضہ بھی بڑی مشکل سے ادا کرتا اور اس جوان کا کام بن گیا اور اپنے اصل پر آ گیا۔
ذکر ثمرہ مجاہدہ
بعد ازاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ یہ سرّ(راز) جو تمام اسرار کی سعادت ہے ظاہر کر دیا فرمایا: شیخ کو یہی کام کرنا چاہیے بعد ازاں اسی بارے میں فرمایا کہ طاعت خواہ تھوڑی ہو صدق زیادہ ہونا چاہیے۔
پھر مجاہدے کے ثمرے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ شاہ شجاع کرمانی ؒ چالیس سال نہ سوئے چالیس سال بعد ایک رات خواب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا اس دِن کے بعد جہاں کہیں جاتے سونے کے کپڑے ہمراہ لے جاتے اور سو جاتے تا کہ پھر اب میں وہ دولت نصیب ہو ایک روز آواز آئی کہ وہ دولت اس بیداری کا نتیجہ تھا۔
ذکر جمع خرچ دُنیا
پھر دنیا کے جمع خرچ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات دو طرح پر بیان کی گئی ہے اوّل یہ کہ حلال کا حساب ہوگا اور حرام کا عذاب، جو حلال کی روزی سے جمع کیا جائے اس کا حساب ہوگا اور جو حرام کی کمائی ہوگی اس کے واسطے عذاب کیا جائے گا ۔دوسرے یہ کہ حلال حرام دونوں کے لیے عذاب ہوگا وہ اس طرح کہ آفتاب ِقیامت تلے کھڑا کر کے پوچھا جائے گا کہ کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا۔
بعد ازاں فرمایا کہ بعض کہتے ہیں کہ یہ امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
حلالها حساب و حرامها عذاب و شبھا تھا عقاب
دنیا کے حلال کا حساب ہوگا حرام کا عذاب اور شبہات (مشتبہ چیزوں) پر عتاب ۔
مشائخ سونا چاندی قبول نہیں کرتے
پھر اس بارے میں گفتگو شروع ہوئی کہ بعض مشائخ سونا چاندی قبول نہیں کرتے فرمایا کہ اس کے لینے اور خرچ کرنے کی شرائط ہیں ۔لینے والے کو چاہیے کہ جو کچھ لے حق سے لے اس بارے میں فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کو علوی سمجھ کر کچھ دے کہ وہ رسول خداﷺ کا فرزند ہے اور دراصل وہ علوی نہ ہو تو اس کے لیے لینا حرام ہے۔ پھر اس بارے میں گفتگو شروع ہوئی کہ کسی مرد کو کسی سے کوئی چیز لینی نہیں چاہیے اور نہ ہی یہ خیال کرنا چاہیے کہ فلاں شخص فلال چیز دے تو بہتر ہو گا، اگر بغیر طلب اور بغیر سوچ مل جائے تو جائز ہے۔
اسی اثناء میں ایک حکایت بیان فرمائی کہ ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ میں کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتا اور نہ ہی کسی چیز کی طمع کرتا ہوں ہاں! اگر کوئی مجھے کچھ دیتا ہے تو لے لیتا ہوں خواہ وہ دینے والا شیطان ہی کیوں نہ ہو۔ خواجہ صاحب نے مسکرا کر فرمایا کہ اس بزرگ نے جو یہ کہا ہے تو اس سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مجھے کوئی چیز دیتا ہے مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیسی ہے اور کہاں سے اسےلا یا ہے اس لیے میں خود نہیں مانگتا۔
پھر انبیاء کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ ہر ایک پیغمبر کو رحلت کے وقت اختیار دیا گیا تھا کہ اگر کچھ دُنیا میں ٹھہر نا ہو تو ٹھہرو! اگر نہیں تو چلے آؤ۔ جب رسول خداﷺکے وصال کا وقت قریب آیا تو خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کے دل میں خیال آیا کہ رسول خداﷺکو یہ بات معلوم ہی ہے ،اب دیکھنا چاہیے کہ صحابہ رضی اللہ عنھم میں کچھ مدت اور رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ خیال دل میں لاکی آنحضرت ﷺکی طرف دیکھنا شروع کیا۔ سرور کائنات ﷺنے زبان مبارک سے فرمایا کہ
مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ
’’ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں کے ساتھـ‘‘
یہ فوائد تھے جو شروع شعبان کے ۷۰۷ہجری سے لے کر آخر ذوالحج ۷۰۸ ہجری تک لکھے گئے جو ایک سال اور پانچ ماہ ہوتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو اور بھی لکھے جائیں گے۔
جلد اوّل ختم شد
----------------------------------------------------------------------------
[23:13, 4/28/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس فوائد الفوادشروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں
[23:13, 4/28/2026] taha nizami: آج حصہ اول کی اختتامی نشست ہے۔
[23:52, 4/28/2026] Saba Dilshad: سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس
فوائد الفوادشروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں
با ادب با ملاحظہ
معلم : خواجہ طہ عامر نظامی
دن :- پیر
کلاس کا وقت :- 11:00pm to 11:40pm
عنوان :- درس فوائد الفوائد
تاریخ : 28 اپریل 2026
معاونہ : کیپٹن صباء دلشاد امینی🫡
[23:54, 4/28/2026] taha nizami:
حم محمد
یس طس
طسم محمد
یہ ذکر ہر نماز کے بعد کم از کم 11 بار کریں۔