google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 مرشد کامل کی اطاعت کی اہمیت آج کا موضوع بہ روشنی فوائدِ الواد میں

مرشد کامل کی اطاعت کی اہمیت آج کا موضوع بہ روشنی فوائدِ الواد میں

0

 


AUDIO

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم  ،،،
اسلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ ،،،
میرے ہم سفر دوستو !!
          یہ دنیا ایک بھیانک جنگل سی ھے جو خونخوار درندوں اور بد روحوں سے بھری ہوئی ھے اس خوفناک جنگل کو بغیر کسی رہنما یعنی کامل مرشد کی دستگیری کے عبور کرنا ناممکن ھے۔ اس دنیا کی دل فریبی اور نفس کی پھسلاہٹ بہت زبردست ھے ، جِسے ایک انسان کبھی بھی مُرشد کامل کے بغیر اسکا مقابلہ نہ تو کر سکتا ھے اور نہ ہی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ھے۔

       راہِ حق کے طالب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اللّٰہ کا بھید صرف صاحبِ راز (مرشدِ کامِل) کے سینے میں پنہاں ھے ، اگر تو آئے تو دروازہ کھلا ھے اور نہ آئے تو اللّٰہ بے نیاز ھے ۔

میرے دوستو !!
       مُرشدِ کامل صاحبِ تصرُّف، فنا فی اللہ بقاء باللہ فقیر ہوتا ھے۔ جو مُردہ قلب کو زندہ کرتا ھے اور زندہ نفس کو مارتا ھے۔
       مُرشدِ کامل ہر حاجت سے پاک ہوتا ھے ۔  مُرشد اُس سنگِ پارس کی مثل ہوتا ھے جو اگر لوہے کو چُھو جائے تو لوہا سونا بن جائے۔ مُرشدِ کامل کسوٹی کی مثل ہوتا اُسکی نظر آفتاب کی طرح فیض بخش ہوتی ھے جو طالب کے وجود سے علائقِ غیر کو مٹا دیتی ھے۔

        حضرت مولانا جلال الدین رُومی رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
مرشدِ کامل کی صحبت کے لیئے دربدر پھر ، کوچہ بکوچہ جا، تلاش کر، تلاش کر تلاش کر۔
 مثنوی دفتر دوم صفحہ : 214

        حضرت سلطان باھو رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
کسی مرد کامل کا ہاتھ پکڑ لے تاکہ تو بھی مرد بن جائے کہ مردان کامل کے سوا راہ حق کی راہبری کوئی نہیں کر سکتا-
 محک الفقر ، صفحہ : 353

      حضرت احمد سرہندی امام ربانی (مجدد الف ثانی) قادری رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
ائے محترم! انسانی زندگی کا مقصد اعلیٰ بارگاہِ قُدس میں ہی پہنچنا ھے ، لیکن چونکہ مرید شروع میں بہت سے تعلقات سے وابستہ ہونے کی وجہ سے انتہائی میلے پن اور پستی میں ہوتا ھے ۔ جبکہ ذات باری تعالیٰ انتہائی پاکیزہ اور بہت بلند ھے۔ اس لیئے فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کے لیئے طالب اور مطلوب کے درمیان جو مناسبت چاہیئے وہ موجود نہیں، لہٰذا اُسکے راستہ سے باخبر اور راستہ کو صحیح دیکھنے والے پیرِ کامل کے سوا کوئی چارہ نہیں، جو درمیان میں واسطہ ہو اور اللّٰہ تعالیٰ سے قُرب اور عام انسانوں سے رابطہ رکھتا ہو تاکہ وہ مطلوب کے ساتھ طالب کے وصول کا ذریعہ بنے۔
 مکتوبات ربّانی ۱۶۹ دفتر اول حصہ سوم

       شیخ بایزید بسطامی رحمتہ اللّہ علیہ کا قول ھے کہ : 
جس کا کوئی مرشد نہ ہو اسکا مرشد شیطان ہوتا ھے۔ 
  الرسالۃ القشیریہ، باب الوصیۃ للمریدین

         حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
  مرشدِ کامل وہ ھے جسے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم واجازت سے جُملہ مقامات ذات و صفات پر تصرف حاصل ہو۔
  محک الفقر ، صفحہ : 391

      حضرت سلطان باھو رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
مرشدِ کامل صاحبِ خُلق ہوتا ھے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام جیسے خُلق کا مالک ہوتا ھے۔ مہربان ایسا کہ ماں باپ سے زیادہ مہربان، راہِ خدا کا ہادی و راہنما، گوہر بخش ایسا کہ جیسے کانِ لعل و جواہر، موجِ کرم ایسا کہ جیسے کہ دریا، منزل کُشا ایسے کہ جیسے قفل کی چابی ، مال و زرِ دنیا سے بےنیاز ، طمع سے پاک ، طالبوں کو اپنی جان سے عزیزتر رکھنے والا درویش۔
 عین الفقر ، صفحہ : 42

      حضرت علامہ اقباؔل رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
جس (مرشدِ اکمل) نے (حق تعالیٰ کا جمال) دیکھ لیا، وہی جہان کا امام ھے، ہم سب ناتمام ہیں اور وہ مکمل ھے۔ اگر تُو ایسا (صاحبِ دیدار) مرشد نہ پائے، تو اسکی تلاش میں نکل، اور اگر پالے، تو اسکے دامن سے وابستہ ہوجا۔
 زبورِ عجم

      حضرت مولانا جلال الدین رُومی رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
مُرشد اور مُرید کا تعلق رُوح اور جسم کی طرح ہوتا ھے، اگر مُرید بیعت ہوکر مُرشد سے رابطہ ختم کر دے تو وہ روح بیمار ہوجاتی ھے، روح کی تازگی مُرشد کا دیدار ھے، اگر مرشد کی تھوڑی سی بھی ناراضگی ہو تو مُرید کے دونوں جہان برباد ہونے کا خطرہ ہوتا ھے۔
اس لیئے ہمیشہ اپنے مُرشد کو راضی رکھیں۔

     حضرت مولانا جلال الدین رُومی رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
مرشد کامل مل جائے تو اُسکی اطاعت  و پیروی دل و جان سے کرو اور اُسکی ہر نرم و سخت بات کو قبول کرو کہ اس میں تمہاری بھلائی پوشیدہ ھے۔

جناب غوثِ الاعظم دستگیر رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں ،،
        تمہارے درمیان صورتا" کوئی نبی موجود نہیں ھے تاکہ تم اس کی اتباع کرو ۔ پس جب تم حضورنبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کے متبعین کا اتباع کرو گے جو کہ حضور نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی اتباع کرنے والے اور اتباع میں ثابت  قدم تھےتو گویا تم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اتباع کیا ۔ جب تم ان کی زیارت کرو گے تو گویا تم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ آلہ وسلّم کی زیارت کی۔(الفتح الربانی ۔ مجلس 14)
اللّہ تعالیٰ ہمیں صالحین صادقین ۔ انعام یافتہ لوگوں کی مکمل پیروی کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین یارحمن ورحیم یاکریم ،،،،





[23:11, 5/7/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں

[23:13, 5/7/2026] taha nizami: 

حضرت علامہ اقباؔل رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :

جس (مرشدِ اکمل) نے (حق تعالیٰ کا جمال) دیکھ لیا، وہی جہان کا امام ھے، ہم سب ناتمام ہیں اور وہ مکمل ھے۔ اگر تُو ایسا (صاحبِ دیدار) مرشد نہ پائے، تو اسکی تلاش میں نکل، اور اگر پالے، تو اسکے دامن سے وابستہ ہوجا۔

 زبورِ عجم


      حضرت مولانا جلال الدین رُومی رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :

مُرشد اور مُرید کا تعلق رُوح اور جسم کی طرح ہوتا ہے، اگر مُرید بیعت ہوکر مُرشد سے رابطہ ختم کر دے تو وہ روح بیمار ہوجاتی ہے، روح کی تازگی مُرشد کا دیدار ہے، اگر مرشد کی تھوڑی سی بھی ناراضگی ہو تو مُرید کے دونوں جہان برباد ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اس لیئے ہمیشہ اپنے مُرشد کو راضی رکھیں۔


     حضرت مولانا جلال الدین رُومی رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ :

مرشد کامل مل جائے تو اُسکی اطاعت  و پیروی دل و جان سے کرو اور اُسکی ہر نرم و سخت بات کو قبول کرو کہ اس میں تمہاری بھلائی پوشیدہ ہے۔


جناب غوثِ الاعظم دستگیر رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں ،،

        تمہارے درمیان صورتا" کوئی نبی موجود نہیں ھے تاکہ تم اس کی اتباع کرو ۔ پس جب تم حضورنبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کے متبعین کا اتباع کرو گے جو کہ حضور نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی اتباع کرنے والے اور اتباع میں ثابت قدم تھے تو گویا تم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اتباع کیا ۔ جب تم ان کی زیارت کرو گے تو گویا تم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی زیارت کی۔(الفتح الربانی ۔ مجلس 14)

اللّہ تعالیٰ ہمیں صالحین صادقین ۔ انعام یافتہ لوگوں کی مکمل پیروی کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین یارحمن یارحیم یاکریم ،،،،

[23:15, 5/7/2026] taha nizami: 

حجابات ستہ

1-حجابِ نعمت

2-حجابِ علم

3-حجابِ طاقت




روحانی حجابات اور ان کا علاج

(حجابِ نعمت):جب بندہ عطاء کو دیکھ کر منعم کو بھول جائے

(علاج):شکر، صدقہ، عاجزی، اور اپنے اختیار کی نفی


(حجابِ علم): جب بندہ علم کو حقیقت کےبجائےاپنی برتری کا آلہ بنا لے

(علاج):خاموشی، اھلِ حق کی صحبت، اور عمل کےذریعےعلم کو نرم کرنا


(حجابِ طاقت):جب اختیار انسان کو حقیقت سےاوپر محسوس کرانےلگے

(علاج):خدمت، انصاف، اور موت کی یاد


[23:17, 5/7/2026] taha nizami:

 مرشد کے ساتھ حلقہ ذکر میں شرکت کی یادیں۔ آئیں اس روحانی یاد میں محو ہوتے ہیں اب




Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !