google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 حصّہ دوئم - DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.13

حصّہ دوئم - DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.13

0

 




بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

یہ صفحات عالیہ اور فتحات عالیہ خواجہ راستین قطب الاقطاب فی الارضین ختم المشائخ فی العلمین شیخ نظام الحق والشرع والدین ( الله تعالیٰ دیر تک آپ کو زندہ رکھ کر مسلمانوں کو مستفیض کرے) کی زبان مبارک سے سن کر جمع کیے ہیں اس طرح کی چند چیزیں پہلے بھی لکھی ہیں اس کا نام

 فوائد الفواد رکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ انشاء اللہ اس کے پڑھنے سننے والے کو دونوں 

جہان کی جمعیت حاصل ہوئی ۔

 ؎صفحے کہ جمع کردم تحفہ اَست پیشِ یاراں حسن علاء سنجری یکی اَز اُمیدواراں

"میں نے چند صفحات جمع کیے ہیں، یہ دوستوں کے سامنے ایک تحفہ ہے۔ حسن علاء سنجری امید رکھنے والوں میں سے ایک ہے۔"

زیارت پیر

ذکر زیارت پیر اتوار کے روز دوسری ماہ شوال ۷۰۹ ؁ہجری کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا خلقت کے میل جول کے ترک کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو زبان مبارک سے فرمایا کہ جوانی کے دنوں میں ،میں لوگوں سے مل جل کر بیٹھتا تھا لیکن ہمیشہ دل میں یہی خواہش رہتی کہ کب خلاصی ہوگی۔ اگر وہ لوگ پڑھے لکھے اور خدا کی یاد والے ہوتے تو پھر بھی بحث کے وقت میرے دل میں ضرور نفرت آجاتی چنانچہ میں نے بارہا اپنے یاروں کو کہا کہ میں تم میں نہیں رہوں گا میں تمہارے پاس چند روز بطور مہمان ہوں میں (مؤلف کتاب ) نے عرض کی کہ آیا شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کے مرید ہونے سے پہلے یہ فرمایا کرتے تھے؟ فرمایا: ہاں ! سوموار کے روز دسویں ماہ ذوالج سن ہجری مذکورہ کو قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا گفتگو اس بارے میں شروع ہوئی کہ پیر کی زیارت کرنی چاہیے خواہ بحالت زندگی، خواہ بحالت وفات ۔فرمایا کہ میں نے اپنے پیر کی زندگی میں تین مرتبہ زیارت کی اور وصال کےبعد چھ سات مرتبہ لیکن اغلب ہے کہ سات مرتبہ ۔ساری عمر میں اب تک دس 

پندرہ مرتبہ زیارت کی ہے۔

بعد ازاں فرمایا کہ شیخ جمال الدین سات مرتبہ ہانسی سے زیارت کے لیے گئے۔

پھر فرمایا کہ شیخ نجیب الدین متوکل پہلے جب پہلی مرتبہ گئے تو روانہ ہوتے وقت شیخ صاحب سے دُعا کے لیے التماس کی کہ جس طرح اب کی مرتبہ حاضر خد مت ہوا ہوں پھر بھی ہوں اور قدمبوسی حاصل کروں۔ شیخ صاحب نے فرمایا کوئی ضرورت نہیں تم کئی مرتبہ آؤ گے چنانچہ اس کے بعد اٹھارہ مرتبہ آئے اٹھا رہویں مرتبہ واپس ہوئے تو پھر اسی نیت سے التماس کی تو شیخ صاحب خاموش ہو گئے ،شیخ نجیب الدین نے یہ خیال کیا کہ شاید سنا نہیں پھر التماس کی پھر 

بھی کچھ جواب نہ دیا پھر وہ چلے گئے ۔ بعد میں ملاقات نصیب نہ ہوئی۔

شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ  شیخ شہاب الدین سہروردیؒ ان کی خدمت میں

بعد ازاں شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ جب شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروری ؒ کے مرید ہوئے۔ تو سترہ روز سے زیادہ نہ رہے، سترہویں روز شیخ شہاب الدین قدس اللہ سرد العزیز نے نعمتیں عنایت فرما ئیں۔ جب شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ بھی یہ ہندوستان آئے تو پھر شیخ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا۔ جب روانہ ہوئے تو شیخ جلال الدین تبریزیؒ سے ملے جنہوں نے آپ کو واپس لوٹایا اور کہا کہ شیخ الشیوخ کا فرمان یہی ہے کہ آپ واپس چلے جائیں۔ 

بعد ازاں آپ کی بزرگی کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے سترہ روز میں وہ نعمتیں حاصل کیں جو باقی یاروں کو سالوں میں بھی حاصل نہ ہوئیں، یہاں تک کہ اس بات سے قدیمی یار بھی برگشتہ مزاج ہوئے کہ ہم نے کئی سال محنت کی اور ہمیں کچھ نصیب نہ ہوا اور ایک ہندوستانی آکر چند روز میں شیخیت لے گیا۔ جب شیخ الشیوخ نے یہ بات سنی تو فرمایا کہ تم گیلی لکڑیاں لاتے ہو گیلی لکڑیوں میں کس طرح آگ لگ سکتی ہے؟ وہ خشک لکڑی لایا تھا جس میں ایک ہی پھونک سے آگ لگ گئی۔

طاعت و مشغولی حق تعالیٰ

جمعرات کے روز تیرہویں ماہ ذوالحج سن ہجری مذکور کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا بات طاعت و مشغولی حق تعالیٰ کے بارے میں شروع ہوئی تو فرمایا کہ جو موجود ہے وہ دو عدموں (نہ ہونا/معدوم چیز) کے مابین ہے۔ اور جو  وجود  عدموںکے مابین ہو،ا سے بھی معدوم ہی جاننا چاہیے ،جیسا کہ حیض کے دنوں میں کوئی عورت پہلے روز خون کا نشان دیکھے، دوسرے روز کوئی نشان نہ ہو اور تیسرے روز پھر نشان ظاہر ہو تو بیچ کے دن کو پاک خیال نہ 

کرنا چاہیے۔بعد ازاں فرمایا کہ "الوجودُ بینَ العدمَینِ مَظهرٌ لِلمُتَخالِفَینِ"

وجود دو عدموں کے درمیان ہے اور وہ دو متضاد چیزوں کا مظہر ہے۔

 خلاصہ یہ کہ جو عمر بمنزلہ عدم ہے اس پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے اور ایسے کم عرصے کو کیوں غفلت اور بیکاری میں برباد کرنا چاہیے ۔بعد ازاں ایک بزرگ کی بابت فرمایا کہ وہ ہمیشہ یاد الٰہی میں مشغول رہتا اور خلقت سے بالکل میل جول نہ کرتا ۔لوگوں نے وجہ پوچھی جواب دیا کہ اس سے پیشتر کئی ہزار سال میں معدوم رہا ہوں اس کے بعد بھی معدوم ہو جاؤں گا سو جو عمر مجھے ملی ہے وہ کیوں ضائع کروں اسے یاد حق ہی میں کیوں نہ بسر کروں؟ 

ذرا بزرگی کہ حق مشغول بود

اس وقت مولانا محمود داودھی نے جو حاضر الوقت تھے اسے پوچھا کہ رہتے کہاں ہو؟ کہا: 

مولانا برہان الدین غریب کےساتھ۔

؎  سرہ باش ھر کجا خواھی باشد

(سچائی اور استقامت کے ساتھ رہو، پھر تم جہاں چاہو  رِہ سکتے ہو)

بعد ازاں فرمایا کہ زمین کے بعض قطعہ زبان ِحال سے بعض قطعوں کو پوچھتے ہیں کہ کیا آج تم پر کوئی ذاکر گزرا۔ یا کوئی دردمند یاغمناک گزرا۔ اگر وہ کہے نہیں تو جس طرح پر گزرا ہو اس پر اپنے تئیں فائق اور اشرف خیال کرتا ہے۔

مختلف بیانات

منگل کے روز بیسویں ماہ ذوالحج سن ہجری مذکور کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا اس روز آپ کسی عزیز کی نماز جنازہ ادا کر کے آئے تھے ۔اس کے احوال کی بابت فرمایا کہ نیک مرد اور خوش خلق تھا ،نیک و بد کسی سے اسے سروکار نہ تھا یہاں تک کہ کسی کا ہاتھ نہ پکڑاتھا۔

بعد ازاں فرمایا کہ مرد جب علم سیکھتا ہے تو اسے شرف ہوتا ہے اور جب کام کرتا ہے، تو اس کے کام کی بہتری ہوتی ہے ۔اس موقعہ پر پیر کو چاہیے کہ جو دونوں کو توڑ دے یعنی علم اور عمل دونوں کو اس کی نظر سے گرا دے۔ تا کہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہو جائے اور مشہور نہ ہو جائے پھر اس متوفی کے بارے میں فرمایا کہ سنا گیا ہے کہ وہ رِحلت کے وقت تنہا تھے، کوئی اپنا پر ایا 

ان کے پاس نہ تھا صرف ذاتِ حق تھی اور وہ یہ بڑی سعادت ہے۔

  یہاں پر شیخ شہاب الدین خطیب ہانسوی کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ وہ مناجات کیا کرتے تھے کہ میں نے تیرے بہت سے اقرار پورے کیے ہیں اب میں اُمیدوار ہوں کہ تو بھی میرا اقرار پورا کرے گا۔ وہ یہ کہ مرتے وقت میرے پاس کوئی نہ ہو نہ ملک الموت اور نہ کوئی اور فرشتہ صرف میں ہوں یا تیری ذات۔

بعد ازاں فرمایا کہ یہ شہاب الدین بہت ہی خدا کا پیارا تھا، ہر رات سورہ بقرہ پڑھ کرسوتا تھا وہ بیان کرتا ہے کہ ایک رات جب میں نے سورہ بقرہ پڑھی تو گھر کے کونے سے 

یہ آواز سنی ؎   داری سرما وگرنه دوراز بر   ما ما دوست گشتیم و تو  نداری سرما

"اگر تمہارے پاس سرمایا (اہلیت/حقیقت/کچھ باطنی دولت) ہے تو ہمارے قریب ہو، ورنہ ہم تم سے دور ہیں۔ ہم نے تو دوستی کر لی ہے مگر تمہارے پاس وہ سرمایہ نہیں ہے۔"

صوفیانہ تشریح:اس شعر میں "سرما" (سرمایہ) ظاہری مال و دولت نہیں بلکہ باطنی حقیقت، معرفت یا عشقِ الٰہی کے لیے استعارہ ہے۔ بنیادی مفہوم:حقیقی قربت کی شرط صوفیانہ فکر میں قرب صرف ظاہری تعلق سے نہیں

 ہوتا،اصل شرط "باطنی صفائی اور معرفت" ہے۔

دوستی کا حقیقی معیار"ما دوست گشتیم" یعنی ہم نے تعلق قائم کر لیامگر یہ تعلق صرف اسی کے ساتھ قائم رہتا ہے جس کے پاس "حقیقی سرمایہ" ہو۔

سرمایہ = عشق و معرفت یہاں سرمایہ سے مراد ،دل کی پاکیزگی، عشقِ حقیقی ،نفس سے آزادی ،حق کی پہچا ن

 دور اور نزدیک کا فرق= جسمانی دوری اہم نہیںاصل دوری "باطنی محرومی" ہے

حقیقی دوستی اور قرب صرف اس کے لیے ہے جس کے پاس عشق، معرفت اور باطنی دولت ہو، ورنہ ظاہری تعلق کے 

باوجود روحانی دوری برقرار رہتی ہے۔

*******************************

گھر والے سوئے ہوئے تھے میں حیران تھا کہ یہ کون کہہ رہا ہے نیز گھر میں بھی کوئی آدمی ایسا نہ تھا جس سے یہ بات صادر ہوتی ہے پھر دوسری مرتبہ یہی آواز سنی

؎   داری سرما وگرنه دوراز بر   ما ما دوست گشتیم و تو  نداری سرما

خواجہ صاحب جب اس بات پر پہنچے تو گریہ اس قدر غالب ہوا کہ ساری حکایت بیان نہ کر سکے روتے تھے اور یہی فرماتے تھے کہ یہ مولانا شہاب الدین کو خطاب ہوا ،اس پر بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوئیں اور ٹھیک اسی حالت میں گزرا جس حالت میں وہ چاہتا تھا۔

 ذکر سماع و اہل سماع 

پھر تھوڑی دیر کے لیے سماع اور اہل سماع کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی فرمایا کہ سماع مریدوں کے لیے جائز ہے۔

ذکر ایمان 

پھر اس بارے میں گفتگو شروع ہوئی کہ ایمان کتنی قسم کا ہے ؟فرمایا کا فر موت کے وقت عذاب کو دیکھ لیتے ہیں پھر ایمان لاتے ہیں لیکن وہ ایمان محسوب نہیں ہوتا اس واسطے کہ وہ ایمان بالغیب نہیں۔ اگر مومن مرتے وقت تو بہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے،لیکن کافر کا ایمان بھی مرتے وقت قبول نہیں ہوتا۔ 

بدھ کے روز گیارہویں ماہ محرم ۷۱۰؁ ہجری کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا، اس وقت کتب مشائخ کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی ایک عزیز حاضر خدمت تھا ۔اس نے عرض کی کہ مجھے ایک شخص نے کتاب دکھلائی اور کہا یہ آنجناب کی لکھی ہوئی ہے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اس نے غلط کہا ہے میں نے کتاب نہیں لکھی۔ 

بعد ازاں فرمایا کہ شیخ علی ہجویری ؒ نے جب کشف المجوب لکھی تو شروع کتاب میں اپنا نام لکھا اور دو تین جگہ اور بھی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے آپ عربی اشعار کہا کرتے تھے لیکن ان میں اپنا نام نہیں لایا کرتے تھے ۔ایک شخص نے وہ شعر اپنے نام کر لیے تو مرتے وقت بے ایمان مر۔اجب یہ حکایت ختم ہوئی پھر اس بارے میں گفتگو شروع ہوئی کہ موت کا وقت سخت ہوتا ہے۔

علامت سلامتی  ٔایمان 

اور یہ کہ مرتے وقت کس طرح معلوم ہو سکتا ہے؟ کہ بے ایمان گیا ہے یا با ایمان فرمایا کہ ایمان کی سلامتی کی یہ علامت ہے کہ مرتے وقت چہرہ زرد پڑ جائے اور پیشانی پر پسینہ ہو پھر فرمایا کہ جب میری والدہ صاحبہ نے انتقال فرمایا تو یہی علامات ظاہر تھیں۔ 

(صلوٰۃ الاوّبین)

بعد ازاں حاضرین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ دو رکعت نماز ہے جو ایمان کی نگہداشت کے لیے مغرب (صلوٰۃ الاوّبین)کی نماز کے بعد اوا کی جاتی ہے جس میں پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سات مرتبہ سورہ اخلاص اور ایک مرتبہ سورہ فلق ۔ اور دوسری رکعت میں سات مرتبہ سورہ اخلاص اور ایک مرتبہ سورۃ الناس بعد ازاں سجدے میں سر رکھ کر تین مرتبہ 

يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ثَبِّتْنِي عَلَى الْاِیْمَانِ (اے ہمیشہ زندہ، اے سب کو قائم رکھنے والے! مجھے ایمان پر ثابت قدم رکھ۔)

 کہے۔ پھر اس نماز کی برکتیں بیان فرما ئیں۔ خواجہ احمد دین نے شیخ معین الدین قدس اللہ سرہ العزیز سے سنی اور انہوں نے خواجہ احمد عظیم سے جنہوں نے بیان کیا کہ میرا  ایک دوست تھا جو ہمیشہ یہ نماز ادا کیا کرتا تھا جب ایک دفعہ اجمیر کی حدود میں تھے تو شام کا وقت تھا وہاں پر چوروں کا  ڈَر تھا ہم تو تین فرض اور دوسنت ادا کر کے چلے آئے لیکن اس یار نے باوجود  اس خوف کے یہ دورکعت نماز بھی ادا کی الغرض جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو مجھے خبر ملی میں حالت پوچھنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس کا انتقال اسی طرح ہوا جیسے ہونا چاہیے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ خواجہ احمد نے اس جوان کی حکایت ایسے الفاظ میں بیان کی ہے کہ اگر مجھے قضاء کی کرسی کے پاس بھی لے چلیں تو میں گواہی دونگا کہ وہ با ایمان گیا۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ-








--------------------------------------------------------------------------------

[23:04, 4/30/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !