google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 حصّہ دوئم - DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.14

حصّہ دوئم - DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.14

0





 

صلٰوۃ البروج

بعد ازاں دو رکعت نماز کا ذکر کیا جو شام کی نماز کے بعد ادا کی جاتی ہے میرا ایک یار تھا جس کے ہم سبق مولاناتقی الدین تھے وہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص صالح اور دانش مند تھا ہمیشہ مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتا پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد  والسماء ذات البروج (سورۃ البروج،پ30)اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ والسماء والطارق (سورۃ الطارق پ30)پڑھا کرتا۔ جب وہ مر گیا تو خواجہ صاحب نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ سے کیا معاملہ کیا؟ کہا جب  میرا انتقال ہوا تو فرمان آیا کہ میں نے اسے ان دورکعت نماز کے بدلے بخشا۔

ذکر صلوۃ النور 

حاضرین میں سے ایک نے سوال کیا کہ اسے صلوٰۃ النور کہتے ہیں؟ فرمایا نہیں اسے صلوٰۃ البروج کہتے ہیں وہ دور کعتیں جن میں سورہ انعام کا شروع(پانچ آیات) پڑھتے ہیں پہلی رکعت میں بستهزؤن پر ختم کرتے ہیں اور دوسری رکعت سورۃ الانعام 

(کی آیت نمبر ۶ تا ۱۰)الم يروا كم اهلكنا سے شروع کر کے یستهزؤن ہی پرختم کرتے ہیں اسے صلوۃ النور کہتے ہیں۔

*وقت طلوع و غروب آفتاب اور ترغیب ِنماز*

بعد ازاں اس وقت طلوع و غروب کی ترغیب کے بارے میں فرمایا کہ جب دن نکلتا ہے تو کعبہ کی چھت پر فرشتہ آواز دیتا ہے کہ اے بندگان خدا اور اسے امتانِ محمدﷺ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں روزی بخشی اور ایک روز تم پر آنے والا ہے یعنی قیامت کا دن اس کے لیے دنیا ہی میں کچھ ذخیرہ کر لو وہ یہ کہ دو رکعت نماز ادا کرو ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد 

پانچ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھو!

بعد ازاں جب رات ہوتی ہے تو وہی فرشتہ کعبہ کی چھت پر یہ آواز دیتا ہے کہ اے بندگانِ خدا ! اور اے امتانِ محمد مصطفی ﷺ ! تمہیں اللہ تعالیٰ نے رات عنایت فرمائی ہے اور ایک رات تمہارے در پیش ہے یعنی قبر کی رات۔ سو  اس رات کے لیے کچھ ذخیرہ جمع کر لو اور کچھ کام کرو ،وہ یہ کہ جب رات ہو تو شام کی نماز کے بعد دو رکعت نماز ادا کرو اور ہر 

رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد پانچ مرتبہ سورۃ الکافرون پڑھو۔ 

بعد ازاں زبان مبارک سے فرمایا کہ شیخ جمال الدین ہانسویؒ نے اس حدیث کی روایت کی ہے لیکن حدیث کے الفاظ یاد نہیں رہے البتہ مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کر دیا ہے۔

احوال بعد از موت

پھر موت کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی نیز اس حال کے بارے میں جو موت کے بعد واقعہ ہوتا ہے تو زبان مبارک سے فرمایا کہ اولیاء اللہ رحلت کے وقت ایسے ہوتے ہیں جیسے کوئی خواب میں ہو اور اس کا معشوق اس کے بستر پر ہو ۔موت کے وقت وہ ایسے شخص کی مانند ہوتے ہیں جو اچانک جاگ پڑے اور اپنی عمر کے بچھڑے معشوق کو بستر پر دیکھے۔ تم اندازہ کر سکتے ہو کہ ایسے شخص کو اس وقت کیسی خوشی ہوتی ہوگی۔ حاضرین میں سے ایک نے سوال کیا کہ بعض اولیاء کو نہیں مشاہدہ کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ فرمایا: بے شک ! لیکن یہ نعمت اس گھڑی دیکھتا ہے جب وہ نعمت بدرجہ کمال پاتا ہے تو ٹھیک ایسے سوئے ہوئے کے مشابہ ہوتا ہے جو بیدار ہو تو پنے معشوق کو بستر پر پائے حدیث :النَّاسُ نِيَامٌ فَاِذَا مَاتُوا انْتَبَهُوا یعنی سب لوگ سوئے ہوئے ہیں جب مرتے ہیں تو جاگتے ہیں یعنی جو شخص دُنیا میں جس چیز میں مشغول ہے ،جب مرے گا تو اسے وہی چیز دی جائیگی ۔

ذکر موت اولیاء

بعد ازاں اولیاء کی موت کے بارے میں فرمایا کہ بداؤں میں احمد نام کا میرا  ایک دوست نہایت صالح معتقد اور ابدال صفت تھا، اگر چہ لکھا پڑھا نہ تھا۔ لیکن سارا  دن شرعی احکام اور مسائل کی تحقیق میں لگا رہتا اور ہر شخص سے اس بارے میں سوال کرتا۔ جب میں دہلی آیا تو وہ بھی آرہا تھا جب مجھ سے ملاقات ہوئی تو وہ بڑے تپاک سے ملا اور میری والدہ صاحبہ کا حال پوچھا ،اسے ان کی رحلت کا حال معلوم نہ تھا۔ جب میں نے بتایا تو تھوڑی دیر مضطرب اور متغیر رہ کر رونا شروع کیا جب خواجہ صاحب اتنی حکایت بیان فرما چکے تو گر یہ اس قدرغالب ہوا کہ جو کچھ فرماتے وہ پورے طور پر سنائی نہ دیتا، اثنائے گریہ میں شعر زبان ِمبارک سے فرمایا یہ معلوم نہیں اپنا تھا یا احمد کا۔

افسوس دلم کہ هیچ تدبیر نکرد     شایستۂ وصال را تدبیر نکرد

کہ گر وصلِ تو یاری کند یا نکند     یاری کہ فراق هیچ تقصیر نکرد

******************************

افسوس دلم کہ هیچ تدبیر نکرد شایستۂ وصال را تدبیر نکرد

افسوس ہے میرے دل پر کہ اس نے کوئی تدبیر نہ کی   -   اور وصال (ملنے) کے لائق ہونے کے لیے کوئی تیاری نہ کی۔

صوفیانہ تشریح:یہ شعر ایک گہری باطنی ندامت (پچھتاوا) کو ظاہر کرتا ہے۔دل کی غفلت:شاعر اپنے دل سے شکوہ کر رہا ہے کہ:تو نے زندگی گزار دی مگر حقیقت (اللہ) تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہ کی۔"تدبیر" کا مطلب یہاں تدبیر سے مراد ہے:نفس کی اصلاح ،

عبادت و مجاہدہ ذکر و فکر،دل کی پاکیزگی یعنی وہ اعمال جو انسان کو"وصالِ حق" کے قابل بناتے ہیں۔وصال کا مفہو م :وصال صوفیانہ اصطلاح میں اللہ سے قرب ،معرفتِ الٰہی ،ر وحانی اتصال۔اصل پیغام یہ شعر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ:صرف خواہش کافی نہیں قربِ الٰہی کے لیے محنت ضروری ہےورنہ آخر میں صرف افسوس رہ جاتا ہے۔حاصل یہ کہ : انسان اپنی زندگی ضائع کر دیتا ہے، اور جب ہوش آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے حقیقت تک پہنچنے کے لیے کوئی تیاری ہی نہیں کی۔

******************************

کہ گر وصلِ تو یاری کند یا نکند یاری کہ فراق هیچ تقصیر نکرد

اگر تیرا وصال (ملنا) مدد کرے یا نہ کرے،  تو ایسی دوستی (محبت) جس نے جدائی میں کوئی کوتاہی نہیں کی (وہی سچی ہے)۔

یا قدرے واضح انداز میں:چاہے تجھ سے ملن نصیب ہو یا نہ ہو،سچی محبت وہ ہے جو جدائی میں بھی وفادار رہے اور کوئی کمی نہ کرے۔

صوفیانہ تشریح:یہ شعر صوفیانہ فکر میں خالص اور بےغرض محبت (عشقِ حقیقی) کی تعلیم دیتا ہے۔وصال اور فراق:وصال = اللہ سے  قرب، روحانی ملاپ۔فراق = جدائی، دوری، آزمائش۔صوفیاء کے نزدیک اصل امتحان فراق میں ہوتا ہے، نہ کہ وصال میں۔محبت کی سچائی:گر تمہاری محبت صرف وصال تک محدود ہے تو وہ کامل نہیں۔سچی محبت وہ ہے جو جدائی میں بھی کمزور نہ پڑے۔

تقصیر نہ کرنا:اس کا مطلب کہ شکوہ نہ کرناصبر رکھنا،وفاداری قائم رکھنا،محبت میں کمی نہ آنے دینا۔یہ شعر دراصل صوفیائے کرام کا تربیتی پیغام دیتا ہے اور سکھاتا ہے کہ اللہ سے محبت "شرطوں" پر نہیں ہونی چاہیےچاہے قرب ملے یا نہ ملےبندہ اپنے عشق، عبادت اور  وفا میں ثابت قدم رہے۔حاصل گفتگو یہ کہ حقیقی عشق وہ ہے جو وصال کا محتاج نہیں بلکہ جدائی میں بھی کامل، صابر اور وفادار رہتا ہے۔

******************************

بعد ازاں فرمایا کہ تھوڑے عرصے بعد احمد دنیا سے انتقال کر گیا میں نے ایک روز خواب میں دیکھا کہ مجھ سے حسب عادت مسائل اور احکام شرعی پوچھ رہا ہے ،میں نے اسے کہا کہ جو کچھ تو پوچھ رہا ہے وہ تو بحالت زندگی کام آتا ہے یا کہ موت کے بعد ؟ کہا: کیا آپ اولیاء اللہ کو مردہ خیال کرتے ہیں؟ یہ حکایت بیان کرتے وقت ایک جوالق (ملنگ) آیا اور سخت سست کہنا شروع کیا، جیسا کہ ان کی عادت ہوئی ہے خواجہ صاحب نے اس کو کچھ نہ کہا جس طمع کے لیے وہ آیا تھا اسے پورا کیا۔

بعد ازاں حاضرین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ایسا بھی ہونا چاہیے بہت لوگ آکر ان کے قدموں پر سر رکھتے ہیں اور کچھ بطور نظر لاتے ہیں پس ایسے لوگوں کو بھی آنے دینا چاہیے اور جو چاہیں کہہ دیں ،خواہ وہ کفر کی باتیں ہی کیوں نہ ہوں۔ پھر فرمایا ایک دفعہ اسی گروہ کا ایک آدمی آیا اور مجھے بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا میں نے کچھ جواب نہ دیا ۔کہا جب  تک جہان میں رہے جرم ہمارا ہو اور گمان تمہارا۔ 

بعد ازاں فرمایا کہ ای گروہ ناشائستہ کا ایک شخص شیخ الاسلام فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں آیا اور کہنا شروع کیا کہ تو نے اپنے تئیں بت خانہ بنا رکھا ہے۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ میں نے نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ پھر کہا نہیں تو نے بنایا ہے۔ شیخ صاحب نے فرمایا: جو کچھ بنایا اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے، وہ یہ سن کر کھسیانا ہو کر واپس ہو گیا۔ بعد ازاں فرمایا کہ ایک مرتبہ چند ایک جو القی ،شیخ بہاؤ الدین ؒ کے پاس آئے اور کچھ مانگا۔ آپ نے نہ دیا باہر جا کر لڑائی شروع کی۔ چنانچہ مارنے کے لیے اینٹیں اُٹھا ئیں۔ آپ ؒنے فرمایا دروازہ بند کرو  اس نے اینٹیں مارنی شروع کیں ایک گھڑی بعد شیخ

بہاؤالدینؒ نے فرمایا کہ میں یہاں خود تو نہیں بیٹھا مجھے مردِ خدا نے یہاں بٹھایا ہے۔ دروازہ  کھول دو جب دروازہ کھولا گیا تو انہوں نے سر قدموں پر رکھ دیئے اور واپس چلے گئے۔

بعد ازاں خواجہ صاحب نے زبان مبارک سے فرمایا کہ پہلے خانقاہ کا دروازہ بند کر  دینا بشریت کی وجہ سے تھا لیکن بعد میں بھرو سے پر دروازہ کھول دیا ۔

پھر فرمایا کہ جنگ اُحد میں جب بہت سے اصحاب شہید ہوئے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول خداﷺکی خدمت میں عرض کی کہ یا محمدﷺآپ بھی ایک مرتبہ ان شہیدوں میں لیٹ جائیں تا کہ غضب کی ساعت گزرے۔ 







**********************************************************









[23:08, 5/4/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں




[23:40, 5/4/2026] taha nizami: 

دیکھو میرے پیاروں میرے لاڈلوں میرے یاروں میری  ہمسفر روحوں میرے مرشد کے لاڈلوں۔۔۔۔۔🪔♥️

 یاد رکھو!

آج کل کے دور میں کوئی بھی روٹی کو ووٹی  نہیں بولتا۔۔۔۔😊🙏🏼

*تو اگر کوئی آپ کے ساتھ مخلص ہے سیدھا سادہ چل رہا ہے تو اس کے ساتھ چالاکی مت کھیلنا کیونکہ جو عاجز ہے وہ تو خاموش ہو جائے گا پر وہ.....جس کے لیے عاجز ہے وہ نہیں چھوڑے گا وہ رگڑا نکال کے رکھ دے گا۔

🙇🏻‍♂️🪔*

اس بندے سے ہمیشہ ڈرتے رہنا جس بندے سے کوئی بھی نہیں ڈرتا۔۔۔

[23:40, 5/4/2026] taha nizami: 

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

تمامی یاران طریقت


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !