google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.6

DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.6

0



سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں 


 عرس شفیق بہت بہت مبارک  

اللہ کریم خواجہ شفیق احمد فاروقی نظامی سعیدی  رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے آ مین

فاتحہ پیش کیجئے گا۔

3بار سورہ اخلاص اور 1بار سورہ فاتحہ پڑھ کر ایصال ثواب کیجئے۔ جزاکم اللہ خیرا


ذکر سالک، واقف وراجع

سالک وہ ہے جو صرف راستہ چلے ،واقف وہ ہے جو فقہ پڑھے۔ میں (مؤلف کتاب) نے عرض کی کہ سالک کو بھی وقفہ پڑتا ہے فرمایا بے شک ! جس وقت سالک سے طاعت میں کچھ فتور آ جاتا ہے اور وہ طاعت کے ذوق سے رُک جاتا ہے تو اسے وقفہ پڑتا ہے اگر جلدی اس سے واقف ہو تو تو بہ کرے تو پھر سالک بنتا ہے ،ورنہ اسی حالت میں رہتا ہے اور اس بات کا بھی اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اسے رجعت لاحق نہ ہو۔

راہ ِ سلوک کی لغزش سات قسم کی

اس کی راہ کی لغزش سات قسم کی ہوتی ہے :

1-اعراض ،2- حجاب ،3- تفاصل ،4- سلبِ مزید، 5-سلبِ قدیم،6-تسلی اور -7-عداوت ۔ پھر ان سات قسموں کی تفصیل یوں فرمائی کہ فرض کرو دو دوست ہیں جو آپس میں عاشق و معشوق ہیں اور ایک دوسرے کی محبت میں مستغرق ہیں اگر عاشق سے کوئی راحت یا روک ظاہر ہو، جو اس کے دوست کو نا پسند ہو اور وہ اس سے منہ پھیر لے ،تو عاشق پر واجب ہے کہ فوراً معافی مانگ لے اگر ایسا کرے گا تو اس کا دوست راضی ہو جائے گا اور کدورت اور 

-1-اعراض ( روگردانی) جاتی رہے گی لیکن اگر وہ محبت اس خطاء پر اصرار کرے اور معافی نہ مانے لگے تو اعراض

-2-حجاب میں بدل جائے گا اور معشوق رُخ نہ دکھائے گا۔ اس موقع پر خواجہ صاحب نے تمثیل کے لیے آستین مبارک اُٹھا کہ چہرہ مبارک پر کر لی اور فرمایا کہ اس طرح حجاب کریگا اس وقت محبت کو واجب ہے کہ عذر اور تو یہ کرے۔ اگر نہ کرے گا تو حجاب

-3- تفاصل ( جدائی) میں بدل جائے گا پس پہلے اعراض تھا جو معافی نہ مانگنے پر حجاب ہوا اور پھر آہستہ آہستہ جدائی میں بدل گیا۔ اگر پھر بھی معافی نہ مانگے تو

 -4-سلب مزید ہو جاتا ہے یعنی طاعت اور اور اد وغیرہ کی لذت اس سے چھین لی جاتی ہے اگر پھر بھی معافی نہ مانگے تو سلب مزید

 -5-سلب قدیم میں بدل جائے گا یعنی سلب مزید سے پہلے جو طاعت اور راحت اس میں تھی وہ بھی لے لی جاتی ہے پس اگر پھر بھی تو یہ نہ کرے اور معافی نہ مانگے تو پھر سلب قدیم

 -6-تسلی میں بدل جاتا ہے یعنی پھر اس کے دل کو اس کی طرف سے اطمینان ہو جاتا ہے اس کا کچھ خیال ہی نہیں کرتا اگر پھر بھی معافی نہ مانگے تو 

-7-عداوت  پیدا ہو جاتی ہے یعنی محبت دشمنی میں تبدٍیل ہو جاتی ہے۔ نعوذ باللہ منھا۔

------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

خود سے ملنا خود کو پہچاننا اور خود کے اندر کس طرح اترا جاتا ہے۔۔۔۔۔❤️‍🔥✨🪔

جو کچھ بھی اس تحریر میں موجود ہے، وہ میرا ذاتی نہیں…یہ الفاظ وہ الہام ہیں جو باطن کی صدا سے اُترے،اور مرشد کی نگاہ سے گزرتے ہوئے تحریر کی صورت میں جلوہ گر ہوئے۔ 🌺❤️‍🔥🪔🙇🏻‍♂️🧘🏼🙏🏼


لوگ اکثر ایک بات کہتے ہیں:

“خود کو پہچانو، خود سے ملو۔خود کے اندر اترو۔۔ خود کو جانو۔۔۔۔🤔🙇🏻‍♂️


یہ جملہ سننے میں بہت خوبصورت لگتا ہے مگر اکثر لوگ اس پر رک جاتے ہیں۔ سوال کرتے ہیں:

میں خود سے کیسے ملوں؟

میں خود کو کیسے پہچانوں؟

میں کہاں اتروں؟

کون سا طریقہ ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ مسئلہ طریقے کا نہیں سمجھ کا ہے۔ جب تک حقیقت واضح نہیں ہوتی سوال بنتے رہتے ہیں۔ اور جب حقیقت سامنے آ جائے تو سوال خود ختم ہو جاتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھ لو کہ “خود” کیا ہے۔

مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ

اردو ترجمہ:

"جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔"

ہم نے خود کو نام، جسم، سوچ، علم، تجربہ اور حیثیت میں قید کر لیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہی میں ہوں۔ حالانکہ یہ سب بدلتا رہتا ہے۔ جسم بدلتا ہے، سوچ بدلتی ہے، علم بڑھتا گھٹتا ہے، حیثیت آتی جاتی ہے۔ جو چیز بدل جائے، وہ اصل نہیں ہو سکتی۔ اصل وہ ہوتی ہے جو ہر حال میں قائم رہے۔

قرآن اسی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ

“اور تمہارے نفسوں میں ہماری نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟”🙇🏻‍♂️❤️‍🔥

(سورۃ الذاریات: 21)

اللہ یہ نہیں کہہ رہا کہ کسی خاص عمل سے پہلے کچھ بنو۔ وہ کہہ رہا ہے: دیکھو۔ بس دیکھو۔ اپنے وجود کو، اپنی زندگی کو، اپنی حقیقت کو۔ اگر آدمی سچائی سے دیکھ لے تو راستہ خود کھل جاتا ہے۔

لیکن یہاں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔۔۔ 


انسان خود کو کچھ سمجھ لیتا ہے۔ کوئی اپنے علم کی وجہ سے، کوئی اپنی عبادت کی وجہ سے، کوئی اپنے تجربے کی وجہ سے، اور کوئی اپنے روحانی ذوق کی بنا پر۔ اسی “میں کچھ ہوں” نے انسان کو حقیقت سے دور رکھا ہوا ہے۔


اسی لیے قرآن سب سے پہلے انسان کو اس کی اصل یاد دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


📖 سورۃ الدہر (الانسان) 76:1

هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا...

“کیا انسان پر ایک ایسا وقت نہیں گزرا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز ہی نہ تھا؟”


یہ آیت اگر انسان واقعی سمجھ لے تو اندر بہت کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔ اللہ صاف کہہ رہا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب تمہارا ذکر تک نہیں تھا۔ نہ نام، نہ وجود، نہ پہچان۔

 اب اس بات کو دور کی نہ بناؤ۔چلو میں مثال کے ساتھ سمجھاتا ہوں اپنے پیاروں کو.....🙇🏻‍♂️😊♥️

اپنے ماں باپ کو دیکھ لو۔ جب وہ خود بچے تھے جب ان کی شادی نہیں ہوئی تھی جب انہیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کبھی ماں باپ بنیں گے

اس وقت تم کہاں تھے؟

 کہیں بھی نہیں۔ نہ زمین پر، نہ آسمان پر، نہ کسی کے خیال میں۔

یہ حقیقت ماننا بہت ضروری ہے کہ ہم ایک وقت کچھ بھی نہیں تھے۔ جب یہ بات دل میں بیٹھتی ہے تو خود بخود غرور نرم ہونے لگتا ہے۔ پھر انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میرا وجود میرا اپنا نہیں، یہ مجھے عطا ہوا ہے۔

اسی بات کو ایک اور مثال سے سمجھو۔...🙇🏻‍♂️😊

1950 کے زمانے میں موبائل فون نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ لوگوں کے لیے یہ تصور بھی ممکن نہیں تھا کہ ایک دن ایک چھوٹی سی چیز میں تصویر ہوگی، آواز ہوگی، ویڈیو ہوگی، اور انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر بات کریں گے۔

 اس وقت موبائل کا ذکر نہیں تھا کیونکہ موبائل تھا ہی نہیں۔ جب موبائل وجود میں آیا تو اس کا ذکر ہوا، پہچان بنی، اور دنیا بدل گئی۔

بالکل اسی طرح انسان بھی ایک وقت نہیں تھا...

پھر وجود میں آیا۔ تو جو شخص یہ سمجھے کہ میں ہمیشہ سے ہوں، یا میں اپنی طاقت، علم یا کوشش سے ہوں وہ حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے۔

اب یہاں ایک بات بہت اہم ہے جسے اکثر لوگ غلط سمجھ لیتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے:

مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ

“جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے نفس کو بڑا سمجھے یا اپنے آپ کو کچھ مان لے۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو پہچان لے۔

 جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں محتاج ہوں، میں فانی ہوں، میرا وجود عطا ہے اور ذاتی نہیں، تو اسی لمحے اسے یہ بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ اصل اختیار، اصل طاقت اور اصل بقا کس کی ہے۔ نفس کی پہچان، رب کی پہچان کا دروازہ بن جاتی ہے۔


📖 سورۃ البقرہ 2:30

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً

ترجمہ:

اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔


سورۃ الحجر 15:26

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ

ترجمہ:

اور بے شک ہم نے انسان کو بجنے والی خشک مٹی سے پیدا کیا جو سیاہ بدبودار کیچڑ سے بنی تھی۔


📖 سورۃ ص 38:71

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ

ترجمہ:

جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا: میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔


📖 سورۃ الحجر 15:29

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ

ترجمہ:

پھر جب میں اسے درست بنا لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر جانا۔


ابھی میں ایک ایت پیش کرنے لگا ہوں یعنی اوپر تم نے سب ایات کو پڑھ لیا تو ابھی میں ایک ایت بتاؤں گا اور اس کے بعد اصل معرفت حقیقت کا نقطہ بتاؤں گا۔۔۔۔❤️‍🔥😊


📖 سورۃ البقرہ 2:34

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ

ترجمہ:

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔

اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔


یہاں بات نوٹ کرنا ادم کا بت مٹی کا بت پڑا رہا اس میں کوئی جان نہیں تھی خالی تو جب اللہ نے اس کو درست کیا تو اللہ نے کہا جب میں اس کے اندر اپنی روح پھونک دوں تو تمام فرشتے سجدے میں گر جانا تو اللہ نے مٹی کے بت کو سجدہ نہیں کروایا تھا تب بت پڑا رہا تھا تو جب روح پھونکی گئی جب اللہ نے کہا جب میں اپنی روح میں سے روح پھونک دوں تو جب اللہ کی روح اس میں داخل ہوئی نور داخل ہوا تو فرشتوں نے سجدہ کیا تو یاد رکھنا بڑا نقطے کی بات کرنے لگا ہوں۔۔۔۔۔

سجدہ اس روح کو ہوا تھا یعنی مٹی کے بت کو نہیں سمجھنے والے سمجھ جائیں گے۔۔۔۔۔۔🪔♥️


📖 سورۃ الاعراف 7:12

قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ

ترجمہ:

ابلیس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔


یعنی ابلیس نے انکار کیا خود کو اعلی سمجھا اور خود کو کچھ الگ سمجھا وہ سمجھا کہ میں کچھ ہوں اور میں کچھ خاص ہوں یعنی میں ہوں۔۔۔۔🥀


یہاں پنجابی کا ایک شعر یاد اگیا مجھے کلام کا۔۔۔۔۔🪔🌊

جس دعوی کیتا میں والا۔۔۔۔🔥

او پل وچ ہو ابلیس گیا۔۔۔۔🥀

اونے یار نو وکھرا سمجھے سی۔۔۔۔❤️‍🔥

میں کی سمجھا جے میں ہوں۔۔۔❤️‍🔥🔥🔥🔥


حق زین یا زین حق زین یا زین حق زین یا زین العابدین سرکار 


اب سوال یہ نہیں رہتا کہ خود میں کیسے اتروں۔ جب انسان یہ حقیقت مان لیتا ہے کہ میں اپنی ذات سے کچھ نہیں تو وہ خود بخود اندر کی طرف آ جاتا ہے۔ یہ کوئی خاص عمل نہیں کوئی خاص مشق نہیں۔ یہ سمجھ کا بدل جانا ہے۔

تصوف اسی مقام سے شروع ہوتا ہے۔ 

تصوف کا مطلب کوئی الگ لباس، الگ نام یا الگ دعویٰ نہیں۔ تصوف کا مطلب یہ ہے کہ انسان حقیقت کو مان لے۔ جب “میں” کم ہوتی ہے تو سکون آتا ہے۔ جب دعویٰ ختم ہوتا ہے تو شکر پیدا ہوتا ہے۔ اور جب شکر آتا ہے تو دل نرم ہو جاتا ہے۔تصوف رستہ ہے جس پر چل کے بندہ حقیقت اور معرفت کو پاتا ہے۔۔۔۔

وحدت الوجود بھی اسی تناظر میں سمجھنے کی چیز ہے۔

 اس کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ خدا بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے وجود کے جھوٹے دعوے چھوڑ دیتا ہے۔ پھر وہ یہ مان لیتا ہے کہ جو کچھ ہے اللہ کے حکم سے ہے۔ میں اپنی ذات سے کچھ بھی نہیں، جو ہوں وہ اس کی عطا سے ہوں۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے مگر بہت گہری ہے۔ خود کو پہچاننے کا پہلا قدم یہ ماننا ہے کہ میں ایک وقت کچھ بھی نہیں تھا۔ جب یہ مان لیا جائے تو اندر ایک خاموشی پیدا ہوتی ہے۔ اسی خاموشی میں حقیقت واضح ہوتی ہے۔ 

پھر نہ یہ سوال رہتا ہے کہ خود میں کیسے اتروں، نہ یہ الجھن رہتی ہے کہ خود کو کیسے پہچانوں۔ بات خود واضح ہو جاتی ہے۔

یہی خود سے ملنا ہے۔

یہی خود کو پہچاننا ہے۔

اور یہی خدا کو پہچاننے کی ابتدا ہے۔

سفرِ خودی سے سفرِ خدائی تک....🌊🥀

سن اے طالبِ حق…

اللہ کو تم کہاں ڈھونڈو گے؟

وہ تو زمین و آسمان کا نور ہے…وہ رگِ جاں سے بھی قریب ہے…وہ ہر ذرّے میں جلوہ گر ہے…

📖 سورۃ النور 24:35

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ 

ترجمہ:

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔۔۔✨


📖 سورۃ البقرہ 2:115

وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ:

اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کے ہیں، پس تم جدھر بھی رخ کرو اُدھر اللہ ہی کا چہرہ ہے۔ بے شک اللہ وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔


📖 سورۃ ق 50:16

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيد

اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔


ڈھونڈنا ہے تو خود کو ڈھونڈو۔

تلاش کرنی ہے تو اپنی کرنی ہے اللہ کی نہیں۔

تم کون ہو؟

کہاں کھڑے ہو؟

تمہاری حقیقت کیا ہے؟

تم نفس ہو یا روح؟

تم قالب ہو یا راز؟

جب بندہ اپنے اندر اترتا ہے۔۔

اپنے تکبر کو توڑتا ہے۔۔۔

اپنی انا کو ذبح کرتا ہے۔۔۔

تب اس پر در کھلتے ہیں۔۔۔

اور یاد رکھنا

اللہ کی طلب اگر دل میں جاگ گئی اللہ کی محبت اگر نصیب ہوگئی تو اسے اپنا کمال نہ سمجھنا…

یہ تمہاری محنت نہیں۔۔🪔

یہ فضلِ عظیم ہے۔

ہر ایک کو یہ نصیب نہیں ہوتا۔

گرد و پیش میں دیکھو…

کیا سب کو یہ درد ملا ہے؟

کیا سب کو یہ عشق نصیب ہوا ہے؟

ہرگز نہیں۔

یہ چناؤ ہے۔

یہ بلاوا ہے۔

یہ نظرِ کرم ہے۔

 مرشد کی ضرورت کیوں؟

یہ راستہ تنہا نہیں طے ہوتا۔

ہر علم کا استاد ہوتا ہے

ہر فن کا معلم ہوتا ہے

تو پھر معرفت کے سمندر میں

بغیر رہبر کے کیسے اترو گے؟

مرشد کامل وہ ہے

جو فنا کا ذائقہ چکھ چکا ہو۔۔

بقا کی حقیقت پا چکا ہو۔۔

شجر سے وابستہ ہو۔۔

سلسلہ سے جڑا ہو۔۔

اور جس کے دل میں نورِ محمدی ﷺ کی جھلک ہو۔

اس کے ہاتھ پر بیعت کرنا

اپنے نفس کو سپرد کرنا ہے۔

ایسے جیسے مردہ غسل دینے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

نہ اپنی مرضی، نہ اپنی چاہت 

بس اطاعت، ادب اور فنا۔

پھر سبق ملتا ہے۔

پھر ذکر ملتا ہے۔

پھر خدمتِ خلق ملتی ہے۔

پھر عاجزی سکھائی جاتی ہے۔

اور جیسے جیسے تم اپنے اوپر محنت کرتے ہو،

راستے بنتے جاتے ہیں۔

📖 قرآن کا وعدہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ

(سورۃ العنکبوت 29:69)

ترجمہ:

اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے راستے دکھا دیتے ہیں، اور بے شک اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

اور وہ تم سے دور نہیں:

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ

(سورۃ ق 50:16)

ترجمہ:

اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔

وہ نور ہے:

اور ہدایت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے:

إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ

(سورۃ القصص 28:56)

ترجمہ:

(اے نبی ﷺ) آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

🌹 اللہ والے کب ملتے ہیں؟

یاد رکھو…❤️‍🔥

ولی، فقیر، درویش، کامل مرشد

کسی بازار میں نہیں ملتے۔

وہ اسی کو ملتے ہیں

جسے اللہ ملنا چاہتا ہے۔

پہلے اللہ چاہتا ہے۔۔

پھر وہ اپنا بندہ بھیجتا ہے۔

پہلے طلب دیتا ہے۔۔

پھر رہبر دیتا ہے۔

پہلے درد دیتا ہے۔۔

پھر دوا دیتا ہے۔

اللہ اللہ کہتے رہنے سے

اللہ نہیں ملتا…

اللہ والے ملتے ہیں

جو اللہ سے ملا دیتے ہیں۔

اور یہ بھی یاد رکھنا۔۔۔

یہ سب اسی وقت ہوتا ہے

جب اللہ خود چاہے۔

اگر دل میں کوئی سوال ہو۔۔

کوئی کھٹکا ہو۔۔

کوئی گرہ ہو جو نہیں کھل رہی 

تو آؤ۔

یہ ۔۔۔۔۔۔۔

طالبوں کے لیے حاضر ہے۔ آپ کا خادم آپ کا نوکر۔۔۔♥️😊

علم سمندر ہے

بات ابھی شروع ہوئی ہے…

اللہ کریم تم سب پر اپنا فضل فرمائے

تمہیں طلبِ صادق عطا کرے

اور تم سب کو مرشد کامل کا خاص فیض و قرب عطاء فرمائے ۔

جو تمہیں تم سے نکال کر اس تک پہنچا دے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !