
خزانے جمع کرنے والے کا بیان
بدھ کے روز پچیسویں ماہ محرم ۷۱۰ ہجری کو قدمبوسی کی سعادت نصیب ہوئی تو ان لوگوں کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی جو خزانے جمع کرتے ہیں زبان مبارک سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف طبیعتوں کے لوگ پیدا کیے ہیں بعض ایسے ہیں کہ اگر خرچ سے کچھ زیادہ مل جائے تو جب تک اسے خرچ نہیں کر لیتے انہیں چین نہیں پڑتا اور بعض ایسے ہیں کہ جس قدر زیادہ انہیں ملتا ہے وہ اور زیادہ کی خواہش کرتے ہیں یہ ازلی قسمت ہے۔
بعد ازاں فرمایا کہ سونے چاندی سے آرام اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اسے خرچ کیا جائے جب تک اسے خرچ نہ کیا جائے آرام حاصل نہیں ہوتا مثلا اگر کوئی شخص آرزو کھانے پینے یا کپڑے وغیرہ کی کرے تو جب دو روپیہ خرچ نہیں کریگا حاصل نہیں کر سکے گا۔ پس معلوم ہوا کہ اگر روپے سے راحت حاصل ہو سکتی ہے تو خرچ کرنے سے ہوتی ہے نہ کہ جمع کرنے سے۔ بعد ازاں فرمایا کہ روپیہ جمع کرنے سے مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو آرام پہنچے اسی اثناء میں فرمایا کہ میرے پاس خود اَوائل ِحال میں جمع کرنے کے لیے نہ تھا اور نہ کبھی میں نے دُنیا کی خواہش کی۔
بعد ازاں جب شیخ الاسلام فرید الدین ؒ کا مرید ہوا۔ تو اور بھی طبیعت نے پلٹا کھایا۔ کیونکہ آپ نے دنیا کو باوجود ملنے کے ترک کر دیا۔ بعد ازاں فرمایا کہ اس سے پہلے میری روزی تنگ تھی اور وقت خوشی سے بسر نہیں ہوتا تھا ۔ایک روز بے وقت میرے پاس کوئی آدمی آدھی بوری لایا میں نے کہا: آج بے وقت ہو گیا ہے اور ضروریات کی چیزیں صرف ہو چکی ہیں ،اسے صبح خرچ کروں گا جب رات ہوئی اور یادِ الٰہی میں مشغول ہوا تو اس آدھی بوری نے میرا دامن پکڑا ،اور مجھے کھینچا جب میں نے یہ حالت دیکھی تو بارگاہ الٰہی میں عرض کی کہ بارِ خدایا! کب دن ہوگا ۔ اور میں اسے خرچ کروں گا۔
ذکر اصحاب ِولایت
ہفتے کے روز پانچویں ماہ صفرسن مذکور کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا اصحاب ِولایت کے قدم کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی کہ ان کو ہوا میں اُڑنا حاصل ہوتا ہے ۔تو زبان مبارک سے فرمایا کہ بداؤں میں ایک ذاکر رہتا تھا جس کا منبر دیوار کے ساتھ تھا ،اس دیوار میں منبر سے اوپر قد آدم کے برابر اونچا ایک طاق تھا، طاق پر محراب تھی جس پر کوئی نہیں بیٹھ سکتا تھا ۔جب تذکیر (ذکر کرنا)کے وقت اس پر حالت طاری ہوتی تو اُڑ کر طاق میں جا بیٹھتا۔ پھر ایک اور حکایت بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ ایک جوگی اور راجہ شیخ صفی الدین کی خدمت میں بطور دعویٰ آئے اور بحث شروع کی۔ شیخ صاحب کو کہا: کوئی کرامت دکھاؤ شیخ صاحب نے فرمایا: دعویٰ تم ہی کرتے ہو تم ہی دکھاؤ۔ جوگی زمین پر سے ہوا میں اُڑا اور پھر اپنی جگہ پر آبیٹھا، پھر کہا کہ تم بھی کچھ دکھاؤ۔ شیخ صفی الدین گازرونی نے آسمان کی طرف منہ کر کے کہا: اے پروردگار ! تو نے بیگانوں کو یہ مرتبہ عنایت فرمایا ہے ،مجھے بھی یہ مرتبہ عنایت فرما۔ بعد ازاں شیخ صاحب اپنی جگہ سے قبلہ رخ اُڑے پھر شمال کی طرف پھر جنوب کی طرف اور پھر اپنی جگہ پر آبیٹھے۔ جو گی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ قدموں پر گر پڑا اور عرض کی کہ ہم سے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ سیدھے اوپر کی طرف کو اُڑیں اور پھر اپنی جگہ آبیٹھیں لیکن آپ نے جس طرح چاہا پرواز کیا ،واقعی یہ حق اور ہم باطل ہیں۔ اس ارادی حرکت کی نسبت ایک حکایت بیان فرمائی کہ ایک دفعہ ایک حکیم خلیفہ کے پاس اپنی کتاب لایا کہ خلیفہ کو راہِ حق سے برگشتہ کرے ،خلیفہ کو بھی اس علم سے رَغبت ہوئی۔ جب یہ خبر شیخ شہاب الدین سہروردی قدس اللہ سرہ العزیز نے سنی تو فرمایا کہ جب خلیفہ اس فلسفہ کی طرف راغب ہو گا ،تو جہان میں تاریکی اور گمراہی پھیل جائیگی یہ کہہ کر اُٹھے اور خلیفہ کے دروازے پر پہنچے اندر خبر کی گئی کہ شیخ صاحب آئے ہیں۔ بلایا گیا تو دیکھا کہ حکیم اور خلیفہ اس علم و بحث میں مشغول ہیں پوچھا: اس وقت کیا کر رہے ہو؟ کہا: خاص معاملہ ہے۔جب بار بار پوچھا تو حکیم نے کہا کہ ہم اس وقت یہ بحث کر رہے ہیں کہ آسمان کی حالت طبعی ہے اور یہ حرکت کی تین قسمیں ہیں طبعی ،ارادی اور قسری(جو کسی کی مرضی کے بغیر کیا جائے)۔
طبیعی وہ حرکت ہے جس میں جسم طبعاً متحرک ہو جیسا کہ ہاتھ سے چھوڑے پتھر کی حرکت زمین کی طرف۔
ارادی وہ ہے جو اپنی خواہش سے جس طرح چاہے کرے۔
قسری وہ ہے جو کسی اور کے جسم کے وسیلے سے ہو جیسا ہوا میں پھینکا ہوا ۔
پھر جب اس کی حرکت کم ہو جائے گی تو پھر وہ زمین کی طرف حرکت کرے گا ،اس حرکت کو طبعی کہیں گے اب ہم یہ بحث کر رہے ہیں کہ آسمان کی حرکت طبعی ہے۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ آسمان کی حرکت قسری ہے پوچھا: کس طرح؟ فرمایا: ایک فرشتہ اس شکل وصورت اور ہیئت کا جوا سے حرکت دیتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، حکیم یہ سن کر ہنس پڑا۔ بعد ازاں شیخ صاحب خلیفہ اور حکیم کو باہر لائے اور کہا: آسمان کی طرف دیکھو اور خود دعاء کی کہ پروردگار! جو کچھ تو اپنے خاص بندوں کو دکھاتا ہے انہیں بھی رکھا۔ جب اُنہوں نے نگاہ کی تو واقعی دیکھا کہ ایک فرشتہ آسمان کو حرکت دے رہا ہے یہ دیکھ کر خلیفہ اس مذہب سے پھر گیا اور پھر دین اسلام میں راسخ الاعتقاد ہو گیا۔
***********************************************************
[23:01, 5/5/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم
تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس فوائد الفواد شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں۔
[23:01, 5/5/2026] taha nizami:
کوئی دم دل کو مصروفِ خیال یار رہنے دے
ذرا اے شورش ہستی مجھے بیکار رہنے دے
سمجھتا ہوں ترے فردا کا مطلب اووفا دشمن
مجھے صبر آگیا تو وعدۂ دیدار رہنے دے
زمانہ تجھ سے مستغنی نہ ہوجائے کہیں ظالم
کسی دل میں تو باقی حسرتِ دیدار رہنے دے
[23:02, 5/5/2026] taha nizami:
امام تاج الدین سبکی طبقات الشافعیة الکبری میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے۔ ایک شخص آپ کی مجلس میں آیا۔ وہ شخص جب گھر سے نکلا تو راستے میں اسے ایک خاتون نظر آئی، اس نے اسے فقط گھور کر دیکھا تھا۔ معاملہ صرف اس حد تک ہی تھا۔ وہ شخص جونہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مجلس میں داخل ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ اُس شخص کو دیکھ کر بولے:
یَدْخُلُ أَحَدُکُمْ وَفِي عَیْنَیْهِ أَثَرُ الزِّنَا.
ایک ایسا شخص تمہاری مجلس میں آیا ہے جس کی آنکھوں میں بدکاری کا اثر نظر آ رہا ہے۔
یعنی اس شخص کی آنکھیں بدکاری کر کے آئی ہیں۔ وہ سمجھ گیا، لرز گیا، اور پوچھا: کیا حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد بھی وحی کے اترنے کا سلسلہ جاری ہے کہ جو آپ بتا رہے ہیں کہ میں کیا کر کے آیا ہوں؟ گویا اس نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر منکشف ہونے والی بات کی تصدیق کر دی اور اپنے عمل کا اعتراف کرلیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، وحی تو بند ہوگئی اب یہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندئہ مومن کے قلب میں اتارتا ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اُس حدیث نبوی کی طرف اشارہ کیا جس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اِتَّقُوْا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللهِ ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآیَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ (الحجر، 15: 75)} أَي الْمُتَفَرِّسِیْنَ.
مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ’بیشک اس میں اہلِ فراست کے لیے نشانیاں ہیں‘۔
سبکی، طبقات الشافعیة الکبریٰ، 2: 327
مناوی، فیض القدیر، 1: 143
خوارزمي، جامع المسانید للإمام أبي حنیفة، 1: 189
ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب من سورة الحجر، 5: 298، رقم: 3127
طبرانی، المعجم الأوسط، 8: 23، رقم: 7843
قضاعي، مسند الشھاب، 1: 387، رقم: 663