google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.11

DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.11

0



عثمان خیر آبادی  ؒہی کے بارے میں

جمعرات کے روز آٹھویں ماہ شوال سن ہجری مذکور کو قدمبوی کا شرف حاصل ہوا شیخ  عثمان خیر آبادی  ؒ کے بارے میں فرمایا:کہ وہ بہت بزرگ آدمی تھا ،اس نے ایک تفسیر بھی تیار کی ہے۔ بعد ازاں فرمایا کہ وہ غزنی میں رہا کرتا تھا اور شلغم اور چقندر وغیرہ کی سبزی پکایا کرتا تھا اور فروخت کیا کرتا تھا ،پھر عنایت غیبی کے بارے میں یہ شعر زبان مبارک سے  فرمایا:

؎ حق بنباں تاج نبوت وہد  ورنہ نبوت چه شناسید شیاں

حق ہی لوگوں کے لیے تاجِ نبوت کو ظاہر کرنے والا ہے،ورنہ عام لوگ نبوت کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟

نبوت کوئی عام چیز نہیں جو ہر شخص خود سے پہچان لےاس کی پہچان اور اس کی سچائی کو حق (اللہ کی تائید/سچائی) ہی واضح کرتا ہےاگر اللہ کی طرف سے حق اور دلیل نہ ہو تو لوگ نبوت کو سمجھ ہی نہیں سکتے، یعنی اصل بات یہ ہے کہ 

نبوت کی سچائی خود اپنی دلیل نہیں رکھتی بلکہ اسے اللہ کی تائید (حق) ہی واضح کرتی ہے۔

 ٭ آسان الفاظ میں کہ نبوت کی پہچان انسانی عقل سے نہیں بلکہ اللہ  کی سچائی اور ہدایت سے ہوتی ہے۔

بعد ازاں فرمایا کہ اگر کوئی شخص اسے کھوٹا پیسہ دے جاتا تو جو کچھ اس نے پکایا ہوتا خرید تا تو وہ دیدہ دانستہ اس کے کھوٹے پیسے رکھ لیتا ،گویا اسے کھوٹے اور کھرے کی تمیز ہی نہیں ۔بہت سے آدمی کھوٹے پیسے لا کر کھرے بدل لے جاتے اور کھانا خرید لے جاتے۔ جب وہ فوت ہونے لگا تو آسمان کی طرف منہ کر کے کہا: اے پروردگار! تو اچھی طرح جانتا ہے کہ لوگ مجھے کھوٹے پیسے دے جایا کرتے تھے اور میں انہیں قبول کرتا تھا اور کبھی نہیں  لوٹاتا تھا۔ اگر مجھ سے بھی کوئی کھوٹی طاعت ہوئی ہو، تو اپنے فضل و کرم سے رَد نہ کرنا۔

  بعد ازاں فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک صاحب حال درویش نے اس کی دیگ سے کھانا طلب کیا شیخ عثمان نے چمچہ دیگ میں ڈالا جب باہر نکالا تو سب مروارید اور موتی تھے، اس درویش نے کہا کہ میں اسے کیا کروں پھر شیخ عثمان نے دوبارہ چمچہ ڈالا تو تمام سونا ہی سونا نکلا اس درویش نے کہا یہ پتھر اور کنکر ہیں ۔ایسی چیز نکالو جو میں کھا سکوں تیسری مرتبہ جب چمچہ ڈالا تو سبزی پکی ہوئی نکلی۔ درویش نے جب یہ حال دیکھا تو کہا کہ اب تجھے یہاں نہیں رہنا چاہیے، اِنہیں چند دنوں میں وہ فوت ہو گیا۔ بعد ازاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ جب  درویش کو ان باتوں کی کشف ہوتی ہے تو وہ رہ نہیں سکتا، حکیم سنائی ہی فرماتے ہیں۔

 آں جمال تو چیست مستی تو وآں سپند تو چیست ہستی تو

***********************************************

تیرا وہ حسن کیا ہے؟ وہ تیری مستی کیا ہے؟اور تیرا وہ سپند (خوشبو/جلایا جانے والا دانہ) کیا ہے؟ وہ تیری ہستی کیا ہے؟اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ:اللہ یا محبوبِ حقیقی کا حسن “محسوس” کیا جاتا ہے، “بیان” نہیں کیا جا سکتاعشق انسان کو خودی سے نکال کر بے خودی (مستی) میں لے جاتا ہےاور اس کی ذات انسانی فہم سے ماورا ہے۔

***********************************************

بعد ازاں زبانِ مبارک سےفرمایا کہ اولیاء اللہ جو کچھ ظاہر کر دیتے ہیں وہ ان کی مستی کی وجہ سے ہے، کیونکہ وہ اصحاب سکر ہیںبر خلاف ان کے انبیاء علیہم السلام اصحابِ صحو   ہوتے ہیں۔ حکیم سنائی اسے مستی کہتے ہیں یعنی کوئی سرّ ظاہر کر دیا ہے۔ تو دیر نہیں کرنی  چاہیےاسے اس عبارت میں ادا کیا ہے ۔

؎  آں جمال تو چیست؟ مستی تو وآں پسند تو چیست ہستی تو

******************************************

تیرا وہ حسن کیا ہے؟ اور تیری وہ سرمستی کیا ہے؟اور تیرا وہ پسند (یا جلوہ/ہستی) کیا ہے؟ آخر تیری ذات کیا ہے؟محبوبِ حقیقی (اللہ تعالیٰ یا مرشدِ کامل) کے بارے میں حیرت اور عاجزی کو بیان کرتا ہے۔ تیرے حسن کی حقیقت سمجھ سے باہر ہےتیری محبت انسان کو ایسی مستی میں ڈال دیتی ہے کہ وہ خود کو بھول جاتا ہےاور تیری ذات کی حقیقت اتنی بلند ہے کہ لفظ “ہستی” بھی اس کو پوری طرح بیان نہیں کر سکتا۔ مطلب یہ کہ محبوبِ حقیقی کا حسن، اس کی کیفیت اور اس کا وجود، انسانی عقل و بیان سے ماورا ہے۔ خلاصہ یہ کہ، شعر اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے کہ:“اللہ یا محبوبِ حقیقی کا حسن، اس کی محبت اور اس کی ذات اتنی عظیم ہے کہ انسان حیرت اور بے بسی میں صرف سوال ہی کر  سکتا ہے، جواب نہیں دے سکتا۔”

******************************************

بعد ازاں زبان مبارک سے فرمایا کہ مرد کے لیے کشف و کرامات بمنزلہ حجاب ہیں اور استقامت کا کام محبت ہے۔

بزرگی مسلم ہے

  سوموار کے روز تیئسویں ماہ ذوالقعدہ سن ہجری مذکور کو قدمبوسی کا شرف حاصل ہوا ایک جوان آیا تو خواجہ صاحب نے اس سے پوچھا کہ تیرے جدّ ِ بزرگوار کس پیر کے مرید تھے؟ جواب دیا کہ شیخ جلال الدین تبریزی ؒ کے مرید تھے ۔خواجہ صاحب نے فرمایا کہ شیخ جلال الدین کسی کو بہت کم مرید کیا کرتے تھے ۔قاضی حمید الدین ناگوری، مولانا برہان الدین غریب حاضر تھے ، پوچھا کہ ایسے بزرگ اور شیخ ہو کر کیوں لوگوں کو مرید نہیں کرتے ؟ خواجہ صاحب نے فرمایا خواہ مرید کریں یا نہ کریں ان کی بزرگی اور شیخی میں کوئی فرق نہیں  آتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دو آدمی ہوں اور دونوں میں قوت رجولیت ہو ایک کے ہاں تو اولاد پیدا ہو اور دوسرے کے ہاں نہ ہو، تو اس سے لازم نہیں آتا کہ اس کے نَرہونے میں کچھ فرق ہے لیکن ایسا بہت کم دیکھا گیا ہے۔ انبیاء علیہم السلام بھی اسی طرح گزرتے ہیں، چنانچہ قیامت کے دن ایک پیغمبر اپنی امت کو ہمراہ لائے گا کسی کے ساتھ کم ہوگی، کسی کے ساتھ زیادہ، ایک پیغمبر آئے گا کہ اس کے ہمراہ صرف ایک آدمی ہوگا لیکن اس سے یہ لازم تو نہیں آتا کہ ان کی نبوت کا قصور ہے اس طرح شیخ اور مرید سمجھ لو۔

ذکر سماع و وجد

اتوار کے روز انتیسویں ماہ و سن ہجری مذکور کو قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا سماع کے وقت جو وَجد ہوتا ہے اس کی بابت گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ ننانوے نام میں الواجد الماجد بھی شامل ہیں واجد بمعنی معطی ( عطا کرنے والا ) بعد ازاں فرمایا کہ واجد، وَجد سے نکلا ہے یعنی بخشش کرنے والا جیسا کہ شکور کے معنی شکر کرنے والے کے ہیں ۔لیکن اسمائے الٰہی میں اس کے معنی شکر قبول کرنے والے کے ہیں۔ اس طرح واجد کے معنی وَجد عطا کرنے والے کے ہیں۔ 

بعد ازاں شیخ شہاب الدین سہروردی رویہ کا ذکر شروع ہوا کہ وہ سماع نہیں سنا کرتے تھے ،زبان مبارک سے فرمایا کہ شیخ نجم الدین کبری رحمۃ اللہ علیہ والرضوان فرمایا کرتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ نعمت جو ہو سکتی ہے وہ شیخ شہاب الدین  ؒ کو دی گئی تھی مگر سماع کا ذوق عطاء نہیں فرمایا گیا تھا۔ بعد ازاں شیخ شہاب الدین ؒکے استغراق شغل کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ ایک مرتبہ شیخ او حد کرمانی  ؒ شیخ شہاب الدین  ؒ کے پاس آئے ،تو شیخ صاحب نے اپنا مصلے لپیٹ گھٹنے تلے دبا لیا۔ یہ بات مشائخ کے نزدیک اعلیٰ درجہ کی تعظیم ہے، الغرض جب رات ہوئی تو شیخ اوحد  ؒنے سماع طلب کیا ،شیخ شہاب الدین  ؒہی نے قوالوں کو بلایا اور سماع ترتیب دیا اور خود کونے میں چلے گئے اور طاعت اور ذکر میں مشغول ہو گئے۔ شیخ اوحد ؒ اور دوسرے لوگ اہل سماع میں مشغول ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو خادم خانقاہ نے شیخ شہاب الدین  ؒ کی خدمت میں عرض کی کہ رات سماع تھا ان لوگوں کو کھانا کھلانا چاہیے؟ شیخ صاحب نے پوچھا کہ کیا رات کو سماع تھا خادم نے عرض کی بے شک ! فرمایا: مجھے اس کی مطلق خبر نہیں ۔ 

بعد ازاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اس سے شیخ شہاب الدین قدس اللہ سرہ العزیز کا استغراق وقت معلوم ہو سکتا ہے کہ آپؒ ذکر میں اس طرح مشغول ہوئے کہ سماع کے غلبہ کی آپ ؒ  کو مطلق خبر نہ تھی جب سماع بند کر دیتے تو شیخ صاحب قرآن مجید سنتے شیخ صاحب نے ان کا سماع باوجود اس قدر غلبہ کے بالکل نہ سنا ۔اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ کس حد تک یا دالٰہی میں مشغول تھے۔

  پھر لاہور کے مزاروں کی بابت گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ وہاں پر بہت سے بزرگ مدفون ہیں بعد ازاں مجھ سے پوچھا کہ تو نے لاہور کو دیکھا ہے؟ عرض کی جناب! دیکھا ہے اور بعض بزرگوں کی زیارت کی ہے۔ مثلا شیخ حسین رنجانی  ؒ او رعلی ہجویری ؒ د ونوں ایک ہی پیر کے مرید تھے اوروہ اپنے زمانے کے قطب تھے۔ حسین زنجانی  ؒمدت سے لاہور میں رہتے تھے۔ کچھ مدت بعد ان کے پیر نے خواجہ علی ہجویری ؒ کو فرمایا کہ لاہور میں سکونت اختیار کر و ۔علی ہجویری  ؒ نے عرض کی کہ حسین زنجانی  ؒ موجود ہیں۔فرمایا: تو جا،شیخ علی ہجویری ؒ فرمان کے مطابق لاہور پہنچے، تو رات تھی دوسری صبح شیخ حسین  ؒکا جنازہ اُٹھا۔

  پھر نظم کے متعلق گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ مشائخ نے بہت عمدہ نظمیں کہی ہیں مثلا اوحد کرمانی  ؒ شیخ ابوسعید ابو الخیر  ؒ اور دوسرے بزرگ رحمتہ اللہ علیہم اجمعین خاص کر شیخ سیف الدین با خز دی جنہیں تقریباً سارے علوم یاد تھے ۔ایک مرتبہ مریدوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ ہر ایک شخص نے کوئی نہ کوئی کتاب تالیف کی ہے، آپ کیوں نہیں لکھتے ؟ جواب یا کہ ہمارا ہر ایک شعر کتاب ہی سمجھو۔

نمازِاشراق

اسی روز مجھے (مؤلف کتاب) نماز اشراق کی بابت فرمایا کہ دو رکعت نماز اس طرح ادا کیا کرو کہ پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعدآیتہ الکرسی تا خالدون تک اور دوسری رکعت میں امن الرسول سے سورہ کے آخیر تک اور

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ  ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ‎﴿٣٥﴾(35:النور) تک پڑھو 

اس کے بعد دو رکعت اور نماز استعاذہ (پناہ) اس طرح ادا کرو کہ پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃالفلق  اور دوسری رکعت میں والناس پڑھا کرو ۔

نماز استخارہ 

بعد ازاں دو رکعت نماز استخارہ کی بابت فرمایا کہ پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پڑھنا اس کے بعد دوگانہ اور ادعیہ۔ پھر فرمایا کہ دورکعت نماز اور میں تجھے بتاؤں گا کہ جس روز شیخ الاسلام فرید الدین قدساللہ سرہ العزیز نے مجھے اشراق کی بابت چھ رکعت کا حکم دیا اور فرمایا کہ کچھ اور بھی کہوں گا۔

آدابِ مجلسِ  پیر

پیر جمعرات کے روز گیارہویں ماہ ذوالحج سن ہجری مذکور کو قدمبوی کا شرف حاصل ہوا آداب مجلس پیر کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو فرمایا کہ آداب اس بات کا نام ہے کہ جب مجلس میں آئیں تو جو جگہ خالی دیکھیں، وہیں بیٹھ جائیں یعنی جب پیر کی خدمت

میں حاضر ہوں تو اوپر یا نیچے بیٹھنے کا خیال نہ کریں بلکہ جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں کیونکہ آنے والے کی جگہ وہی ہوتی ہے۔ بعد ازاں فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول الله ﷺایک مقام پر بیٹھے تھے اور یار گرد حلقہ باندھے بیٹھے تھے، تین شخص آئے ایک اس حلقے میں خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا ،دوسرے کو حلقہ میں جگہ نہ ملی وہ پیچھے بیٹھ گیا، تیسرا واپس چلا گیا۔ ایک گھڑی بعد رسول خداﷺنے فرمایا کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے آ کر مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص حلقہ میں بیٹھ گیا ،اسے ہم نے اپنی پناہ میں لے لیا ہے اور جو پیچھے بیٹھ گیا ہم اس سے شرمندہ ہیں قیامت کے دن ہم اسے رُسوا نہیں کریں گے اور جو  شخص چلا گیا ہے وہ ہماری رحمت سے دُور ہو گیا ہے۔بعد ازاں خواجہ صاحب نے فرمایا: اَدب اس کا نام ہے کہ جو شخص مجلس میں آئے جہاں پر خالی جگہ دیکھے ،وہیں بیٹھ جائے اگر مجلس میں خالی جگہ نہ پائے تو پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائے لیکن درمیان میں نہ بیٹھنا چاہیے کیونکہ جو درمیان بیٹھتا ہے وہ ملعون ہے۔

تلاوت قرآن مجید

اتوار کے روز اکیسویں ماہ ذوالج سن ہجری مذکور کو قدمبوی کا شرف حاصل ہوا۔ تلاوت قرآن کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو زبان مبارک سے فرمایا کہ جب پڑھنے والے کو کسی آیت کے پڑھنے سے ذوق اور راحت حاصل ہو تو اسے بار بار پڑھنا چاہیے بعد ازاں فرمایا کہ تلاوت اور سماع کی حالت میں جو سعادت حاصل ہوتی ہیں،اس کی تین قسمیں ہیں۔

ذکر حالت ِوقت ِسماع

 انوار و احوال اور آثار اور وہ تین عالم یعنی ملک، ملکوت اور جبروت سے نازل ہوتی ہے اور وہ  تین مقامات ارواح ،قلوب اور جوارح (جسم کے حصے)پر نازل ہوتی ہیں۔ 

انوار ،ملکوت سے اَرواح پر

 احوال جبروت سے قلوب پر اور

 آثار ملک سے جوارح(جسم کے حصے) پر ۔ 

پہلی حالت سماع میں عالم ملکوت سے اَرواح پر نازل ہوتے ہیں بعد ازاں جو کچھ دل میں پیدا ہوتا ہے، اسے احوال کہتے ہیں اور وہ عالم جبروت سے قلوب پر نازل ہوتا ہے۔

 بعد ازاں جو حرکت، جنبش اور آہ و بکا ظاہر کرتا ہے اسے آثار کہتے ہیں اور یہ عالم ملک سے  جوارح(جسم کے حصے) پر نازل ہوتا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ




[23:01, 4/27/2026] Saba Dilshad: کیپٹن الرٹ🚨 

معلم خواجہ طہ عامر نظامی سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ 

 معاونہ : کیپٹن صباء دلشاد امینی🫡

[23:13, 4/27/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !