google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.10

DARS-E-FAWAID-UL-FAWAD NO.10

0


[20:06, 4/23/2026] taha nizami: سلام علیکم طبتم 

تمامی یاران طریقت کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش ہے۔ درس 

فوائد الفواد

شروع کرتے ہیں تو آئیے محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں

[20:10, 4/23/2026] taha nizami: جس نے بھی حق کو پایا ہےاس نے اتنا ہی پایا جتنا اس نے اپنا آپ دیا

[20:11, 4/23/2026] taha nizami: *جتنا تُو خالی ہوا، اتنا وہ بھرا۔جتنا تُو مٹا، اتنا وہ ظاہر ہوا۔*


دیکھو میرے پیاروں میرے لاڈلوں میرے یاروں میری  ہمسفر روحوں میرے یار کے لاڈلوں۔۔۔۔۔

*جس نے بھی حق کو پایا ہےاس نے اتنا ہی پایا جتنا اس نے اپنا آپ دیا۔۔۔۔

*

جتنا تُو خالی ہوا، اتنا وہ بھرا۔

جتنا تُو مٹا، اتنا وہ ظاہر ہوا۔

حق لامحدود ہےوہ کسی دل میں پورا سما نہیں سکتا کسی عقل میں قید نہیں ہو سکتا کسی بیان میں مکمل نہیں آ سکتا۔عارف وہ نہیں جو کہے میں نے پا لیا

عارف وہ ہے جو مان لے کہ


“یا رب! جتنا تو تھا اتنا میں تجھے نہ جان سکا۔”

یہی وجہ ہے کہ معرفت دعویٰ نہیں فضل ہے۔وہ جس پر چاہے جتنا چاہےاپنے کرم سے کھول دیتا ہے۔....


اور جو یہ سمجھے کہ میں پورا پا گیا سمجھ لو وہ ابھی دروازے پر ہی کھڑا ہے۔

حدیث (حوالہ):

رسولِ اکرم ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:

«مَا عَرَفْنَاكَ حَقَّ مَعْرِفَتِكَ، يَا رَبّ»

ترجمہ:

*“اے میرے رب! ہم تیری معرفت حاصل نہ کر سکے جیسے تیری معرفت کا حق تھا۔”


قرآنِ کریم کی آیت:

﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾

(سورۃ الانعام: 91)

ترجمہ:

*“اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسی اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔”


تو بات بس اتنی ہے…

جو جتنا جھکا، اتنا پایا جو جتنا مٹا، اتنا جانا اور جو یہ مان گیا کہ

“میں پورا نہیں جان سکا”

وہی دراصل معرفت کی راہ میں داخل ہو گیا۔یہ علم کتابوں سے نہیں یہ عطا نظر سے ملتی ہے۔

اور نظر…

صرف فضل سے ملتی ہے۔


دعاء گو 

طہ امینی

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !